200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے اہم خبر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی سبسڈی کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی بدستور جاری رہے گی۔

وفاقی وزیر توانائی Owais Leghari اویس احمد خان لغاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پروٹیکٹڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی خبریں درست نہیں۔ ان کے مطابق حکومت ان صارفین کی تعداد میں اضافے کے باوجود سبسڈی کا نظام جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی رجسٹریشن اور ڈیٹا اپڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ سبسڈی کا نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت صارف کے شناختی کارڈ کو بجلی کے میٹر سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا پی ٹی آئی اجلاس: 25 سے 30 اراکین غائب، اصل وجہ کیا ہے؟

وفاقی وزیر کے مطابق گزشتہ چار سال میں 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ان صارفین کو سالانہ 527 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جس میں سے 249 ارب روپے وفاقی حکومت جبکہ 278 ارب روپے دیگر بجلی صارفین برداشت کر رہے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پاور سیکٹر میں اصلاحات کے ذریعے نظام کو بہتر بنا رہی ہے اور بجلی کے شعبے میں شفافیت اور کارکردگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں بجلی کی قیمتوں میں مجموعی کمی دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے بعد 3,500 ارب روپے کی مستقبل کی ادائیگیوں میں کمی لائی گئی، جبکہ غیر فعال پاور پلانٹس کی مشینری 47 ارب روپے میں نیلام کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان الیکشن، پی ٹی آئی کے پاس امیدوار نہیں، صرف شور مچا رہی ہے ،عباد اللہ خان

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نقصانات میں 193 ارب روپے کی کمی اور گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر پر حکومتی بجٹ سپورٹ بھی کم ہوئی ہے، جو ماضی میں 1,287 ارب روپے تھی اور اب 890 ارب روپے تک آ گئی ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں اس کے مزید کم ہونے کی توقع ہے۔

اویس لغاری کے مطابق گزشتہ دو سال میں پاور سیکٹر نے قومی خزانے پر 457 ارب روپے کا بوجھ کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراس سبسڈی میں کمی کے باعث صنعتی صارفین کے ٹیرف میں بھی کمی ہوئی ہے جبکہ گھریلو صارفین کے نرخ بھی پہلے کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاور سیکٹر میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 2025 میں 55 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2035 تک اسے 90 فیصد تک بڑھایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی نمایاں طور پر کم کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی خریداری کے روایتی نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے مسابقتی مارکیٹ ماڈل متعارف کرایا ہے، جس کے تحت مستقبل میں حکومت براہ راست بجلی خریدنے کے کاروبار سے باہر ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : آخر کبوتر اپنے گھر کا راستہ کیسے پہچانتے ہیں؟ جانیں

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سولر توانائی کے فروغ کی حامی ہے اور نیٹ میٹرنگ پالیسی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق ملک میں سولر انرجی کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اندازاً 50 ہزار میگاواٹ سے زائد سولر صلاحیت صارفین خود نصب کر چکے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ حکومت عوامی شکایات کے ازالے کے لیے 118 ہیلپ لائن کو فعال بنا چکی ہے جبکہ شکایات کے حل کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرانسفارمر مرمت کے نام پر صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کے واقعے پر سخت کارروائی کی گئی ہے اور احتساب کا عمل جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کے ذریعے شفافیت، کم لاگت اور بہتر سروس ڈیلیوری کو یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

Scroll to Top