پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصف محمود امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کے چیئرمین منتخب

پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر آصف محمود کو امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (USCIRF) کا متفقہ طور پر چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ وہ یہ اہم عہدہ سنبھالنے والے پہلے پاکستانی نژاد اور پہلے جنوب ایشیائی شخصیت بن گئے ہیں۔

ڈاکٹر آصف محمود اس وقت یو ایس سی آئی آر ایف کے وائس چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ مئی 2026 میں انہیں کمیشن میں دوسری مدت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی رکنیت کی مدت 14 مئی 2028 تک جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں : مردان میں بارش کے دوران چھت گرنے کا واقعہ، بچے سمیت 3 افراد زخمی

ڈاکٹر آصف محمود نے اس تقرری کو ایک بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے پاکستانی، پہلے مسلمان اور پہلے ایشیائی ہیں جو مسلسل دوسری بار اس اہم ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی ایک آزاد مشاورتی ادارہ ہے، جسے وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور کانگریس کے لیے مذہبی آزادی سے متعلق معاملات پر اہم سفارشات پیش کرنے والا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کمیشن 1998 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ عالمی سطح پر مذہبی آزادی کے تحفظ کو امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکے۔

کمیشن کے نو کمشنرز کا تقرر امریکی صدر یا کانگریس کی دونوں بڑی جماعتوں کے سینیئر اراکین کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود کی دوبارہ تقرری ایوان نمائندگان میں اقلیتی پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے کی تھی۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آصف محمود کا ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں اس اہم ادارے کے سربراہ کے طور پر انتخاب ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر آصف محمود مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے معاملات پر آواز اٹھانے کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھارت سمیت مختلف ممالک میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر رپورٹس اور بیانات میں اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر آصف محمود امریکا کے نمایاں ڈیموکریٹ رہنماؤں، بشمول کلنٹن فیملی اور سابق نائب صدر کاملا ہیرس کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے 2022 میں کیلیفورنیا کے کانگریشنل ڈسٹرکٹ فورٹی سے ڈیموکریٹک ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑا تھا۔

وہ 2018 میں کیلیفورنیا کے انشورنس کمشنر کے انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں، جہاں انہوں نے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : بارشوں کے بعد پشاور میں فلڈ صورتحال، بورڈ بازار خوڑ میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ

ڈاکٹر آصف محمود بنیادی طور پر پلمونولوجسٹ ہیں اور انسانی حقوق کے شعبے میں بھی سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کا تعلق امریکا کے شہر بریڈبری سے ہے، جبکہ پاکستان میں ان کا آبائی تعلق پنجاب کے ضلع گجرات کے شہر کھاریاں سے ہے۔

انہوں نے میڈیکل تعلیم سندھ میڈیکل کالج سے حاصل کی، بعد ازاں امریکا منتقل ہو کر یونیورسٹی آف کینٹکی میڈیکل سینٹر سے ریزیڈنسی مکمل کی اور کولمبیا یونیورسٹی کے ہارلم اسپتال سے پلمونری فیلوشپ حاصل کی۔

ڈاکٹر آصف محمود کیلیفورنیا میڈیکل بورڈ کے رکن بھی ہیں، جہاں ان کی تقرری 2023 میں کی گئی تھی۔ وہ متعدد انسانی فلاحی اداروں سے بھی وابستہ ہیں اور انسانی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہیومینیٹرین ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

بطور فزیشن ڈاکٹر آصف محمود کی سماجی خدمات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، جہاں انہوں نے ضرورت مند افراد کے لیے بلا معاوضہ علاج فراہم کرنے کے حوالے سے شہرت حاصل کی۔

Scroll to Top