وفاقی وزیر معافی مانگیں یا وزارت چھوڑ دیں، بلاول بھٹو کا بڑا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر کو کشمیری عوام سے معافی مانگنی چاہیے یا پھر وزارت چھوڑ دینی چاہیے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر مہم کے دوران احتجاج کرنے والوں کی جانب سے انہیں ایک خط موصول ہوا، جس کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ کشمیری عوام کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لیے ایک پرامن راستہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصف محمود امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کے چیئرمین منتخب

انہوں نے تجویز دی کہ اگر ٹرتھ کمیشن کے قیام پر اتفاق ہو جائے تو مظاہرین اپنا احتجاج عارضی طور پر مؤخر کر دیں، جبکہ حکومت بھی کمیشن کی رپورٹ آنے تک مزید اقدامات روک دے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ صرف 12 نشستوں کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق اور حق حکمرانی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے متعلق فیصلے کسی ایک فرد یا جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی رائے سے ہونے چاہئیں۔

بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے آئینی کنونشن بلانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کی مشاورت سے کشمیری عوام کو مزید آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق دینے کے طریقہ کار پر غور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی بندش پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند سیکیورٹی خدشات والے علاقوں کے علاوہ پورے خطے میں مواصلاتی پابندیاں مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ بندش سے انتخابی مہم، عوامی رابطے اور شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاقی وزیر کے بعض بیانات سے کشمیری عوام کی دل آزاری ہوئی ہے، اس لیے انہیں معافی مانگنی چاہیے یا عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کی خواہش نہیں رکھتی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رابطہ ہوا ہے۔

انہوں نے انتخابی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے، کیونکہ مضبوط جمہوریت ہی ملک کے استحکام کی ضمانت ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بارشوں کے بعد پشاور میں فلڈ صورتحال، بورڈ بازار خوڑ میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ

مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ ایک سینئر سیاستدان ہیں اور عام طور پر محتاط گفتگو کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر دورے کے دوران مولانا فضل الرحمان کا انہیں فون بھی آیا تھا، تاہم خواہش ہے کہ حالیہ تقریر سے پیدا ہونے والا منفی تاثر خود ان کے الفاظ سے دور ہو۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان حکومت سے کچھ ناراض ہیں، غصہ کم ہونے کے بعد وہ اس بات پر ضرور غور کریں گے کہ الفاظ کے انتخاب کو بہتر بنایا جا سکتا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی کامیابی چاہتے ہیں کیونکہ وزیراعظم کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے، تاہم وزیراعظم کے اردگرد کچھ ایسے افراد موجود ہیں جو انہیں غلط مشورے دے کر مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا انتخابی نظام سے متعلق مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق انتخابی عمل پر اعتماد بڑھانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، کیونکہ عوام جتنا زیادہ نظام پر اعتماد کریں گے، اتنا ہی وہ خود کو فیصلوں کا حصہ محسوس کریں گے۔

Scroll to Top