دنیا میں پہلی بار ایبولا وائرس کے خلاف تیار کی گئی نئی تجرباتی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے 37 سالہ رضاکار ایڈ ہنٹ کو ویکسین کی پہلی خوراک دی جا چکی ہے، جبکہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ یہ ویکسین صرف آٹھ ہفتوں میں تیار کی گئی۔
کووڈ-19 کی آکسفورڈ-ایسٹرازینیکا ویکسین جیسی ٹیکنالوجی پر مبنی اس ویکسین کے ابتدائی مرحلے میں 18 سے 55 سال کی عمر کے 50 صحت مند رضاکار شامل کیے جا رہے ہیں، تاکہ اس کی حفاظت اور مدافعتی ردِعمل کا جائزہ لیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق بنڈی بگیو قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف یہ پہلی ویکسین ہے جو انسانی آزمائش کے مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایبولا وائرس کے خدشات، سعودی عرب نے 3 افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دیں
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین ٹیم کا کہنا ہے کہ ابتدائی ٹرائل کے بعد جلد یوگنڈا میں بھی آزمائش شروع کی جائے گی، جبکہ بعد ازاں جمہوریہ کانگو میں بڑے پیمانے پر اس کی افادیت کا جائزہ لیا جائے گا۔





