سرکاری جامعات میں مبینہ بے ضابطگیاں، اے این پی کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی نے صوبے کی سرکاری جامعات میں مبینہ میرٹ خلاف ورزیوں اور تحقیقات میں تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

اپنے بیان میں حسین شاہ یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن، بدعنوانی اور اقربا پروری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری ملازمتوں، پوسٹنگز اور ٹرانسفرز میں مبینہ طور پر میرٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی نمائندے بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس عمل میں نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک افراد ملوث ہیں۔

اے این پی رہنما کے مطابق یونیورسٹی آف ہری پور سمیت صوبے کی 9 سرکاری جامعات میں مبینہ میرٹ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے 22 فروری 2026 کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں، جنہیں دس روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ مکمل رپورٹس جاری کی گئیں اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کسی کارروائی کی تفصیلات سامنے لائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ 16 جولائی کو جاری کیے گئے مختصر نوٹیفکیشن میں بھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اعلیٰ میرٹ رکھنے والے امیدواروں کو کس بنیاد پر مسترد کیا گیا، کم میرٹ کے حامل امیدواروں کا انتخاب کیسے کیا گیا اور انٹرویو نمبروں میں مبینہ ردوبدل کے الزامات کی تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلا۔

یہ بھی پڑھیں : قائدِاعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک، معاملہ ہائیکورٹ پہنچ گیا

حسین شاہ یوسفزئی نے مطالبہ کیا کہ نو سرکاری جامعات سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیوں کی مکمل رپورٹس فوری طور پر منظرعام پر لائی جائیں، میرٹ سے متعلق تمام الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ امیدواروں کو قانون اور میرٹ کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نوجوانوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں مزید تاخیر کے بجائے فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ اقدامات یقینی بنائے۔

Scroll to Top