اسلام آباد: فیس بک صارفین کو مفت بلیو ویریفکیشن بیج دینے کے نام پر ایک خطرناک سائبر فراڈ مہم کا انکشاف ہوا ہے، جس کے ذریعے صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس مہم کے حوالے سے تین ماہ قبل ہی خبردار کر دیا تھا۔ بین الاقوامی سیکیورٹی کمپنی گارڈ ڈاٹ آئی او (Guard.io) کی مئی میں جاری رپورٹ میں اس مہم کو AccountDumpling کا نام دیا گیا تھا، جسے مبینہ طور پر ویتنام سے تعلق رکھنے والا سائبر جرائم پیشہ گروہ چلا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، ملک بھر میں اموات کی تعداد 107 تک پہنچ گئی، مزید بارشوں کی پیشگوئی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فیس بک صارفین، پیج ایڈمنز اور کاروباری اکاؤنٹس چلانے والے افراد کو بڑی تعداد میں جعلی ای میلز موصول ہوئیں، جن کا مقصد ان کے اکاؤنٹس پر قبضہ کرنا تھا۔
سیکیورٹی محقق شیکڈ چن کے مطابق حملہ آور خاص طور پر ایسے فیس بک اکاؤنٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کی مالی یا کاروباری اہمیت زیادہ ہے۔ چوری کیے گئے اکاؤنٹس کو بعد ازاں مبینہ طور پر آن لائن پلیٹ فارمز پر فروخت بھی کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق سائبر مجرموں نے اس مہم میں گوگل کی AppSheet سروس کا غلط استعمال کیا، جو عام طور پر کاروباری ورک فلو اور نوٹیفکیشن کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ یہ ای میلز گوگل کے مستند نظام سے بھیجی جاتی ہیں، اس لیے وہ بظاہر اصلی محسوس ہوتی ہیں اور صارفین آسانی سے دھوکا کھا سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی معتبر پلیٹ فارم سے آنے والی ای میل کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں موجود لنک یا پیغام بھی محفوظ ہے۔ حملہ آور اسی اعتماد کا فائدہ اٹھا کر جعلی پیغامات کے ذریعے صارفین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض جعلی ای میلز میں صارفین کو بتایا جاتا ہے کہ ان کا فیس بک اکاؤنٹ بند ہونے والا ہے یا اس پر کاپی رائٹ کی شکایت درج ہوئی ہے، جبکہ کچھ پیغامات میں مفت فیس بک بلیو بیج حاصل کریں کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔
جعلی ویب صفحات پر صارفین سے پہلے فرضی کیپچا مکمل کروایا جاتا ہے، جس کے بعد رابطے کی معلومات، پاس ورڈ اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) کوڈز طلب کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معلومات فراہم کرنے کی صورت میں صارف کا اکاؤنٹ حملہ آوروں کے قبضے میں جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کا پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار پر نظرثانی کا مطالبہ
سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق حملہ آور ای میل فلٹرز کو دھوکا دینے کے لیے جدید تکنیکیں بھی استعمال کر رہے ہیں، جن میں پوشیدہ یونیکوڈ حروف، الفاظ کو توڑ کر لکھنا اور ایسے خصوصی کریکٹرز شامل ہیں جو اصل برانڈنگ سے ملتے جلتے دکھائی دیتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے فیس بک صارفین کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ ای میل میں موجود لنک کھولنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں، اپنا پاس ورڈ یا 2FA کوڈ کسی غیر مصدقہ ویب سائٹ پر درج نہ کریں اور اکاؤنٹ سے متعلق تمام کارروائیاں صرف میٹا کے سرکاری پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دیں۔
ماہرین نے صارفین کو مشتبہ ای میلز کو نظر انداز کرنے اور فوری طور پر رپورٹ کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے تاکہ مزید افراد کو اس فراڈ سے محفوظ رکھا جا سکے۔





