ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سے متعلق جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ صوبے میں حالات خراب ہیں۔
سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں بعض عناصر اپنے مفادات کے لیے حالات کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں بعض سردار دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر انہیں حصہ نہیں دیا جائے گا تو وہ دہشت گردی کرائیں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردوں سے اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ان کے پاس دو ہی راستے ہیں، وہ سرنڈر کریں یا پھر سکیورٹی فورسز کا سامنا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں گے، اور اگر تمام فیصلے آئین و قانون کے تحت بلا تفریق ہوں تو یہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوگی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حقوق کی بات کرنے سے پہلے فرائض کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے حقوق کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم آئینی ذمہ داریوں سے آگاہی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست سے وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان اور شناخت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الخوارج کا سہولت کار خود ساختہ مولوی ظفریاب گرفتار ،سنسنی خیز انکشافات، دہشتگردی کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ معرکہ حق میں حکمت عملی ناکام ہونے کے بعد بلوچستان میں نظریں جمائی گئیں، تاہم حقائق کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔





