سوات کبل واقعہ، تحقیقات میں اہم پیش رفت، حملہ آور کی شناخت ہوگئی، آئی جی خیبر پختونخوا

شہزاد نوید

سوات: سوات کبل پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے سوات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیدو شریف ہسپتال میں زیر علاج زخمی پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی عیادت کی۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کبل دھماکے کی تحقیقات، سیکیورٹی اقدامات اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔

ذوالفقار حمید نے کہا کہ کبل پولیس اسٹیشن دھماکے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے گی، جبکہ خودکش حملہ آور کی شناخت بھی کرلی گئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے اور انہیں دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ دہشت گردوں کی تشکیل ہوتی رہتی ہے تاہم وہ ایک جگہ پر مستقل موجود نہیں رہتے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء کو شہید پیکیج دیا جائے گا۔ پولیس فورس کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے اور استعداد کار میں مزید بہتری لائی جائے گی۔

آئی جی کے پی نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات پہلے سے موجود تھے، جس کے باعث سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس جوانوں نے خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد دھماکہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : سوات کبل خودکش دھماکہ، دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط کریں اور غیر ضروری اجتماعات سے گریز کریں۔

کبل دھماکے کا مقدمہ درج

دوسری جانب سوات کبل خودکش دھماکے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایف آئی آر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں درج کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمہ تھانہ کبل کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں دہشت گردی کی دفعات 7ATA سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق کبل چوک میں ایک احتجاج جاری تھا جو شام 4 بجے شروع ہوا، جبکہ شام 6 بج کر 4 منٹ پر تھانہ کبل کے مین گیٹ پر دھماکہ ہوا۔

مقدمے کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوئی۔ ایف آئی آر میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ علاقے میں موجود کالعدم تنظیم کے کمانڈر مظفر اور دیگر دہشت گردوں کی کارروائی معلوم ہوتا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top