وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے اعتراف کیا ہے کہ بیرون ملک سے گندم کی درآمد مقامی گندم کے مقابلے میں زیادہ مہنگی پڑے گی، جبکہ حکومت گندم کی خریداری کے لیے صوبوں کو اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔
یہ بات انہوں نے سید حسین طارق کی زیر صدارت منعقدہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کے اجلاس میں بتائی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی گندم کی سپورٹ پرائس کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سیزن میں سندھ حکومت نے گندم خریدی تھی جبکہ پنجاب نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 3200 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدی۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی رانا حیات کے اس سوال پر کہ “جب ملک میں گندم موجود ہے تو باہر سے کیوں خرید رہے ہیں؟” وفاقی وزیر نے بتایا کہ انہوں نے صوبوں کو خطوط لکھ کر کہا تھا کہ اگر گندم کی دستیابی میں مسئلہ ہے تو قیمت 3800 روپے فی من کر دیتے ہیں، تاہم کسی صوبے نے اس کا جواب نہیں دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی ضرورت کو الگ کر کے اس وقت وفاق کے پاس ایک ملین ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ بیرون ملک سے گندم درآمد کرنے پر یہ 4200 سے 4300 روپے فی من پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان سے فارغ التحصیل میڈیکل گریجویٹس پاکستان میں پریکٹس کے اہل نہیں ہوں گے: پی ایم ڈی سی
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے تجویز دی کہ اگر مقامی گندم کی سپورٹ پرائس 4500 روپے فی من مقرر کر دی جائے تو کسان مہنگی کھاد استعمال کرنے کے باوجود بہتر پیداوار دے سکے گا اور ملک میں گندم سرپلس (ضرورت سے زائد) ہو جائے گی۔





