پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میں عارضی قیام، ویزے کی تجدید اور بے دخلی سے تحفظ کے لیے دو سابق افغان جرنیلوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔
عدالت عالیہ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نےدرخواستوں پر باقاعدہ حکمنامہ جاری کیا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق درخواست گزاروں میں سے ایک سابق افغان صدارتی پروٹیکٹو سروس میں اسپیشل ایجنٹ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں جبکہ دوسرے درخواست گزار سابق افغان نیشنل آرمی میں اہم عہدے پر فائز رہے ہیں۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد وہاں واپسی کی صورت میں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں، اس لیے انہیں ہنگامی طبی علاج اور پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے۔
درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ویزے کی توسیع اور تجدید کے لیے متعلقہ حکام کو درخواستیں دے رکھی ہیں، لہذا عدالت انتظامیہ کو ہدایت جاری کرے کہ ویزا عمل مکمل ہونے تک انہیں گرفتاری، ہراسانی اور بے دخلی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : ارشد چائے والا کا ایک بار پھر عدالت سے رجوع، وجہ سامنے آ گئی
پشاور ہائیکورٹ نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ ویزے کی تجدید، توسیع اور غیر ملکیوں کے قیام سے متعلق تمام امور اور فیصلے متعلقہ حکومتی و انتظامی حکام کے اختیار اور دائرہ کار میں آتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اس انتظامی معاملے میں عدالتی مداخلت کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا، جس کے بعد بینچ نے دونوں سابق افغان جرنیلوں کی درخواستیں مسترد کر دیں۔





