گومل یونیورسٹی میں گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی 411 مستقل تقرریاں ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئی ہیں جہاں ان تقرریوں کی قانونی حیثیت، طریقہ کار اور مالی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام تقرریاں قانون، میرٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال کے ایک سالہ دور میں مختلف بنیادی تنخواہی اسکیلز میں مجموعی طور پر 411 مستقل تقرریاں کی گئیں۔
ان میں بی پی ایس 21 میں 30، بی پی ایس 20 میں 70، بی پی ایس 19 میں 88، بی پی ایس 18 میں 111، بی پی ایس 17 میں 8 جبکہ دیگر گریڈز میں بھی متعدد تقرریاں شامل ہیں۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان تقرریوں سے یونیورسٹی پر بھاری مالی بوجھ پڑا ہے اور معاملے کی آزادانہ و شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ بعض تقرریاں متعلقہ این او سی کے بغیر کی گئیں جبکہ اضافی اخراجات کے باعث یونیورسٹی کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی کو سبز باغ نہیں دکھا سکتا، اگلے ماہ تنخواہ اور پنشن دینے کے پیسے نہیں ہیں، پرو وائس چانسلر گومل یونیورسٹی
ناقدین کے مطابق مالی دباؤ کے باعث ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم یونیورسٹی کو حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے مالی معاونت بھی فراہم کی جا چکی ہے۔
دوسری جانب گومل یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ 411 تقرریوں میں بڑی تعداد نئی بھرتیوں کی نہیں بلکہ طویل عرصے سے زیر التوا ون اسٹیپ پروموشنز پر مشتمل ہے، ان کے مطابق اساتذہ اور ملازمین کو قواعد کے مطابق ترقی دی گئی جبکہ نئی بھرتیوں کی تعداد محدود رہی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ متعدد اساتذہ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میرٹ کی بنیاد پر ترقی اور تقرری کے اہل قرار پائے اور تمام اقدامات شفاف طریقہ کار کے تحت کیے گئے۔
گومل یونیورسٹی میں تقرریوں کا معاملہ اب بھی زیر بحث ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔





