سلمان یوسفزئی
پشاور: جامعہ پشاور نے مالی اخراجات میں کمی اور کم انرولمنٹ والے ملتے جلتے مضامین کے تدریسی شعبہ جات کو یکجا کرنے کے لیے نیا بچت پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔
جامعہ پشاور کی اکیڈمک کونسل نے انضمام کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں متعدد تدریسی شعبہ جات کو ضم کرنے کی منظوری دے دی، تاہم انضمام کی حتمی منظوری سنڈیکیٹ سے لی جائے گی۔
فیصلے کے تحت جغرافیہ، جیو میٹکس اور اربن اینڈ ریجنل پلاننگ کو یکجا کرکے نیا انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے گا۔ اسی طرح فارسی و اردو، سوشیالوجی و اینتھروپولوجی جبکہ پشتو اکیڈمی اور شعبہ پشتو کو بھی ضم کیا جائے گا۔
جامعہ پشاور میں آرکیالوجی، ٹورزم و ہوٹلنگ مینجمنٹ کو بھی ایک شعبے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ تاریخ، فلسفہ اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ جات بھی ضم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : جامعہ پشاور کے شعبہ جات کو ضم کرنے کے نام پر بند کرنے کی تجویز تشویشناک ہے، میاں افتخار حسین
اس کے علاوہ ریجنل، جینڈر اسٹڈیز اور ہوم اکنامکس سے متعلق مختلف شعبہ جات کو ایک مشترکہ انسٹیٹیوٹ میں ضم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
جامعہ پشاور کی اکیڈمک کونسل نے بی ایس پروگرام کی نئی اسٹڈی اسکیم کی منظوری بھی دے دی، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی ڈبل ڈگری پالیسی بھی اکیڈمک کونسل سے منظور کرلی گئی ہے۔
جامعہ پشاور کے ترجمان کے مطابق ملتے جلتے مضامین کے شعبہ جات کو ضم کرنے سے تعلیمی سرگرمیوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ انسٹیٹیوٹس کے قیام سے فیکلٹی سمیت دیگر انتظامی اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
ترجمان کے مطابق شعبہ جات کے انضمام کا مقصد تعلیمی معیار متاثر کرنا نہیں بلکہ دستیاب وسائل کا بہتر استعمال اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا ہے۔





