کاشف عزیز
پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ 12 اگست 1948 کو بابڑہ میں ریاستی ایماء پر 600 سے زائد نہتے اور پرامن خدائی خدمتگاروں کا قتل عام کیا گیا، 78 برس گزرنے کے باوجود شہداء آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
سانحہ بابڑہ کے شہداء کی 78ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں ایمل ولی خان نے کہا کہ سانحہ بابڑہ کے شہداء کا خون ریاست کے دامن پر ہمیشہ لگا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر صرف قتل عام تک محدود نہیں رہا بلکہ شہداء کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی، بیشتر لاشوں کو دریا برد کیا گیا جبکہ شہداء کے گھروں کے سامنے ڈھول بجائے گئے۔ ان کے مطابق زخمیوں اور شہداء کے اہل خانہ سے گولیوں کی قیمت اور جرمانے تک وصول کیے گئے۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ سانحہ بابڑہ ریاستی جبر اور پختونوں کے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ بدقسمتی سے 78 برس بعد بھی حالات نہیں بدلے اور بلوچستان و خیبرپختونخوا کے عوام بدامنی اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پختونخوا کی ایک تحصیل تو کیا، ایک ویلج کونسل بھی جدا نہیں کرسکتے، ایمل ولی خان
انہوں نے کہا کہ خدائی خدمتگاروں نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ عدم تشدد کی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے 12 اگست کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خدائی خدمتگاروں کی ثابت قدمی، عزم اور بے لوث قربانیاں مشعل راہ ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدائے بابڑہ اور خدائی خدمتگاروں کی پیروی کرتے ہوئے عوام کے حقوق، وسائل پر اختیار، امن، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔





