اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرکے اہلکار کی جان لینے کی کوشش کی گئی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت راولپنڈی مال روڈ واقعے سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والا ملزم خیبرپختونخوا ہاؤس میں رہتا رہا اور تحریک انصاف کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کرتا رہا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ جوابی کارروائی میں جاں بحق ہونے والے شخص کا دماغی توازن درست نہیں تھا، اگر ایسا تھا تو اسے پہلے ہی خود سے الگ کیوں نہیں کیا گیا؟
طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کو اپنے کارکنوں کی بہتر تربیت کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے سیاسی رہنما متنفر ہوکر الگ ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو نفرت اور انتشار کی سیاست ترک کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : مال روڈ راولپنڈی فائرنگ میں ملوث ہلاک دہشتگرد محمد حسین کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آگئے
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز جس اہلکار پر حملہ کیا گیا وہ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا، جلاؤ گھیراؤ کی سیاست سے ملک کی خدمت نہیں کی جاسکتی۔
سیاست کا نام خدمت ہے اور خیبرپختونخوا میں 17 سال سے حکومت کے باوجود عوام کو کیا دیا گیا، اس کا جواب بھی دینا ہوگا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے مزید کہا کہ بیرون ملک بیٹھے بعض عناصر ویوز اور کمائی کے لیے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ پاکستان میں استحکام آرہا ہے اور ملک کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔





