مختلف یورپی ممالک میں نایاب سورج گرہن کے نظارے نے شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا، 12 اگست 2026 کو ہونے والا یہ سورج گرہن گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور پرتگال کے ایک محدود حصے میں مکمل طور پر نظر آیا، جبکہ یورپ کے بیشتر علاقوں میں جزوی سورج گرہن کا مشاہدہ کیا گیا۔
سپین میں سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں شہری مختلف مقامات پر جمع ہوئے، حکام نے گرہن کے مشاہدے کے لیے سیکڑوں مقامات مختص کیے، جبکہ لاکھوں افراد نے اس منفرد فلکیاتی منظر کو دیکھنے کے لیے مختلف شہروں اور سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔
میڈرڈ اور بارسلونا سمیت اسپین کے بعض بڑے شہروں میں سورج کا تقریباً 99 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا، ناسا کے مطابق میڈرڈ اور بارسلونا میں گرہن کے عروج پر سورج تقریباً 99 فیصد تک ڈھکا رہا، تاہم ان شہروں میں مکمل گرہن کے بجائے تقریباً مکمل جزوی گرہن دیکھا گیا۔
مکمل سورج گرہن کی پٹی سپین کے شمالی اور وسطی علاقوں سے گزری، جبکہ پرتگال کے شمال مشرقی حصے اور آئس لینڈ میں بھی مکمل گرہن کا مشاہدہ کیا گیا۔ آئس لینڈ میں شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد اس نایاب منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئی، اگرچہ بعض علاقوں میں بادلوں کے باعث مشاہدے میں مشکلات کا بھی سامنا رہا۔
دوسری جانب برطانیہ، آئرلینڈ، فرانس، اٹلی اور یورپ کے دیگر علاقوں میں جزوی سورج گرہن دیکھا گیا، یورپ سے باہر کینیڈا، امریکا کے شمالی حصوں، شمالی افریقا اور دیگر علاقوں میں بھی سورج گرہن جزوی طور پر نمایاں ہوا۔
ماہرین فلکیات نے شہریوں کو خبردار کیا کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھوں سے دیکھنے سے گریز کیا جائے اور مشاہدے کے لیے معیاری اور تصدیق شدہ سولر ایکلپس چشموں یا مناسب سولر فلٹرز کا استعمال کیا جائے، کیونکہ عام دھوپ کے چشمے آنکھوں کو سورج کی خطرناک شعاعوں سے محفوظ نہیں رکھتے۔





