عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4,400 ڈالر فی اونس کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی معیشت کے اہم اعداد و شمار میں صارفین کے اعتماد اور ریٹیل سیلز میں کمی سامنے آنے کے بعد فوری طور پر شرح سود میں اضافے کے خدشات میں کچھ کمی آئی ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کو سپورٹ ملی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر شرح سود میں اضافہ سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثے کے لیے دباؤ کا باعث بنتا ہے، کیونکہ بلند شرح سود کے ماحول میں سرمایہ کار دیگر منافع بخش اثاثوں کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسٹاک مارکیٹ: رواں ہفتے 100 انڈیکس میں 1325 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ
دوسری جانب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے مزید معاشی اقدامات کی دھمکی نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔ اس صورتحال کے باعث سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کی رفتار میں ممکنہ کمی، فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کی سمت طے کرنے والے اہم عوامل ہیں۔
سرمایہ کار اب امریکی معاشی اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جن سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کے مستقبل کے رجحان سے متعلق صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔





