وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی بنوں میں جلسے میں شرکت کے موقع پر سیکیورٹی اور پروٹوکول کے لیے گاڑیوں کے طویل قافلے پر سوالات اٹھ گئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جلسے میں عوامی شرکت توقعات کے مطابق دکھائی نہیں دی، تاہم وزیراعلیٰ کی آمد کے موقع پر پروٹوکول اور سیکیورٹی کے وسیع انتظامات نمایاں رہے۔
ناقدین کا کہان ہے کہ حکومتی وسائل کا بڑا حصہ پروٹوکول اور سیکیورٹی انتظامات پر صرف ہونے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جانی چاہیے۔
مقامی سطح پر عوام کو امن و امان، بنیادی سہولیات، روزگار اور ترقی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے، جبکہ سیاسی جلسوں اور طویل پروٹوکول قافلوں کے بجائے عملی اقدامات عوام کی اولین ترجیح قرار دیے جا رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق بنوں کے جلسے میں محدود عوامی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ شہری محض سیاسی نعروں اور جلسوں کے بجائے امن، روزگار، بنیادی سہولیات اور عملی ترقی چاہتے ہیں۔
تاہم جلسے میں عوام کی شرکت اور پروٹوکول میں شامل گاڑیوں کی تعداد سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔





