وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے پشاور پہنچنے سے قبل کینٹونمنٹ کی چیک پوسٹیں ختم کرنے کے مطالبے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ فوجی تنصیبات اور کینٹونمنٹس کی سکیورٹی کے لیے چیک پوسٹیں قائم کی جاتی ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں سکیورٹی کے پیش نظر عام آمدورفت بھی محدود رکھی جاتی ہے۔
صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر سہیل آفریدی کو کینٹونمنٹ کی چیک پوسٹوں پر اتنا اعتراض ہے تو وہ خود پشاور کینٹ میں کیوں رہتے ہیں اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر سمیت دیگر اہم شخصیات کینٹونمنٹ کے محفوظ ماحول سے استفادہ کیوں کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کینٹونمنٹ کی سکیورٹی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی سکیورٹی نظام کے خلاف نعرے لگانا دوہرا معیار ہے۔
صارفین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر سکیورٹی اداروں کے حفاظتی اقدامات کو سیاسی نعرے بازی کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا صارفین نے مزید کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ محض نعروں سے نہیں بلکہ مؤثر سکیورٹی انتظامات اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں سے ممکن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بنوں آمد، سٹریٹ موومنٹ یا پروٹوکول موومنٹ؟ کارکن کم، پروٹوکول کی گاڑیاں زیادہ
سوشل میڈیا صارفین نے سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ وہ کینٹونمنٹ کی سکیورٹی کو ترجیح دیتے ہیں یا چیک پوسٹوں کے خلاف سیاسی مؤقف کو۔





