امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی ختم ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں اور دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عام آدمی کی مشکلات کا اندازہ وہ شخص کیسے لگا سکتا ہے جس کی بجلی مفت ہو اور جو خود ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس پر مختلف ٹیکسز بھی عائد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالب علم کی اپنی کوئی آمدنی نہیں ہوتی اور وہ کماتا بھی نہیں، لیکن اس کے باوجود اسے پٹرولیم لیوی اور ٹیکسز کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ عوام سے روزانہ کی بنیاد پر 700 سے 800 روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نوشہرہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا میگا شجرکاری مہم کا افتتاح، 14 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر
حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ ن لیگ سے وابستہ جاگیرداروں نے کتنا ٹیکس ادا کیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ جاگیردار اپنا ٹیکس ادا نہیں کرتے، لیکن اس کا بوجھ عام شہریوں پر منتقل کردیا جاتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے طبقات عوام پر مسلط ہیں اور جب ان سے ٹیکسز کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف نے ٹیکس عائد کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام پر مسلسل نئے ٹیکسز عائد کرنے کے بجائے اشرافیہ اور ان طبقات سے ٹیکس وصول کرنا چاہیے جو اپنی آمدنی کے تناسب سے قومی خزانے میں حصہ نہیں ڈال رہے۔





