ڈپریشن موجودہ عہد کے ان امراض میں سے ایک ہے جو نہایت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ نہ صرف ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے بلکہ اس سے جسمانی صحت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کی روزمرہ کی چند بظاہر معمولی عادات ہی انہیں اس ذہنی عارضے کی طرف دھکیل رہی ہوتی ہیں۔
طبی جریدوں میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے مطابق درج ذیل 6 عام عادات ڈپریشن کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہیں۔
الٹرا پراسیس غذاؤں کا بے تحاشا استعمال
ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، انسٹنٹ نوڈلز اور میٹھے مشروبات جیسی الٹرا پراسیس غذائیں دماغی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں، بالخصوص درمیانی عمر کے افراد کے لیے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ناقص غذا کا استعمال ڈپریشن کا باعث بنتا ہے، جبکہ اس کے برعکس ‘امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن’ کے مطابق متوازن اور اچھی غذا سے ڈپریشن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
بہت زیادہ اکیلے وقت گزارنا
کچھ دیر تنہائی میں وقت گزارنا ذہنی سکون کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن حد سے زیادہ اکیلا رہنا خطرناک ہے۔ ماہرین کے مطابق دوستوں اور اہلخانہ سے مضبوط تعلقات اور رابطے قائم رکھنے سے ڈپریشن کی علامات پر قابو پانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
سکرین کا حد سے زیادہ استعمال
اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، ٹیلی ویژن اور دیگر ڈیوائسز پر گھنٹوں وقت گزارنا یا ایک وقت میں کئی سکرینز کا استعمال کرنا اب معمول بن چکا ہے۔ طبی رپورٹس کے مطابق ڈیوائسز پر ضرورت سے زیادہ وقت بتانے سے ڈپریشن اور سماجی انزائٹی (Social Anxiety) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کی صحبت
منفی خیالات اور مایوسی پھیلانے والے افراد کے ساتھ وقت گزارنے سے آپ کی اپنی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں انسان خود بھی مایوسی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ رہنے سے ڈپریشن سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
رات گئے تک جاگنا
تحقیقات کے مطابق جو افراد رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں منفی خیالات کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے جو رفتہ رفتہ ڈپریشن کی علامات کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اس کے برعکس رات کو وقت پر سونے اور صبح جلدی اٹھنے والوں میں ڈپریشن کا خطرہ کافی حد تک کم ہوتا ہے۔
سست طرززندگی اور سارا دن بیٹھے رہنا
دن کا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارنے سے ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب انسان جسمانی طور پر متحرک ہوتا ہے تو دماغ ایسے کیمیکلز خارج کرتا ہے جو موڈ کو خوشگوار بناتے اور ڈپریشن کو گھٹاتے ہیں۔ سست طرزِ زندگی سے یہ کیمیکلز کم بنتے ہیں جس سے ڈپریشن کی علامات زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے۔ کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔





