وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کا صرف اور صرف دہشت گردی کا خاتمہ ایجنڈا ہے اور اس سلسلے میں کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے کئی افراد کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطے ہیں جن کے جلد ثبوت فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ملک میں ہونے والے 80 فیصد دہشت گردانہ واقعات میں ملوث افراد افغانستان سے آ رہے ہیں۔
محسن نقوی نے سیاسی صورتحال اور مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود فیصلے کرنے کے مجاز نہیں تھے اور انہوں نے مسودہ مراد سعید کو بھجوایا جس نے مذاکرات کو سبوتاژ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ کون کس کو کتنے پیسے فراہم کر رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ 25 نومبر کے احتجاج کے وقت بھی حکومت نے پی ٹی آئی کو متبادل جگہ کی پیشکش کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : صاحبزادہ فرحان کی شاندار اننگز کے باوجود پاکستان کو آخری ٹی ٹوئنٹی میں شکست
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلا جائے گا اور آئینی ماہرین نشاندہی کریں کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں آئین کی کس شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔





