گورنر راج کے بعد پشاور میں انتظامی تحرک: جمیل چوک انڈر پاس 15 نومبر کو کھولنے کا اعلان

پشاور: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں عوامی ریلیف اور شہر کی بہتری کے لیے انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہو گئی ہے۔ 

کمشنر پشاور اور ضلعی انتظامیہ نے سڑکوں کی کشادگی، ٹریفک کی روانی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے کڑے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کمشنر پشاور نے جمیل چوک انڈر پاس منصوبے کا احاطہ کرتے ہوئے تعمیراتی کام کی رفتار کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو تمام تر وسائل بکارِ لاتے ہوئے منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی سخت ہدایت کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر پشاور نے اعلان کیا کہ جمیل چوک انڈر پاس پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے اور اس کا افتتاح 15 نومبر تک ہر صورت کر دیا جائے گا۔

 انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو آمد و رفت میں کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو، جس کے لیے تعمیراتی مقام پر 24 گھنٹے (تین شفٹوں) میں کام جاری رکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈر پاس کی بروقت تکمیل اور عوام کو ٹریفک کے عذاب سے نجات دلانا ترجیحِ اول ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں کے لیے عمارتوں کے منظور شدہ نقشے لازمی قرار

دوسری جانب گورنر راج کی آمد کے ساتھ ہی پشاور میں تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا کڑا آپریشن مسلسل تیسرے روز بھی بلا تعطل جاری رہا۔

 ضلعی انتظامیہ نے رنگ روڈ، کوہاٹ روڈ، پشتہ خرہ چوک اور پی ڈی اے ٹول پلازہ کے اطراف میں کارروائیاں کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کو ہٹا کر سڑکوں کی اصل حدود بحال کر دیں۔

آپریشن کی براہِ راست نگرانی ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران خود کر رہے ہیں۔ انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا بنیادی مقصد سڑکوں پر تجاوزات کا خاتمہ اور شہریوں کے لیے سفر آسان بنانا ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں تجاوزات کے مکمل اور باقاعدہ خاتمے تک یہ آپریشن اور سخت انتظامی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔

Scroll to Top