صوبائی دارالحکومت پشاور میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد منشیات کے نرخ مہنگے ہونے کے باعث نشے کے عادی افراد (چرسیوں) کی مشکلات میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے۔
شہر کے مختلف پلوں کے نیچے، ریلوے پلوں اور کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے والے ان افراد کا شکوہ ہے کہ موجودہ سیاسی منظرنامے نے ان کے معمولات زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ جب تک صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم تھی تب تک منشیات کا سامان نہ صرف انتہائی سستے داموں مل جاتا تھا بلکہ اس کے حصول میں کسی قسم کی کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی۔ لیکن جیسے ہی پی ٹی آئی کی حکومت رخصت ہوئی اور نظام بدلا، منشیات کی مارکیٹ کو بھی جیسے گرہن لگ گیا ہو۔
نشے کے عادی افراد نے اپنی ابتر حالت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جو سگریٹ یا مال پہلے مارکیٹ میں محض چند سو روپے (دو سے تین سو روپے) میں باآسانی دستیاب ہو جاتا تھا اب اس کی قیمت اچھل کر ہزاروں (پانچ سے دس ہزار) روپے تک جا پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاپا کی شہادت پر فخر ہے، پولیس افسر بن کر خارجیوں سے لڑوں گا: شہید ایس ایچ او افضل خان اعوان کے بیٹے کی ویڈیو وائرل
ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ اب منہ مانگے دام دینے کے باوجود بھی معیاری مال ڈھونڈے سے نہیں ملتا جس کی وجہ سے ان کا روزمرہ کا گزارا محال ہو چکا ہے۔





