مہمند میں انتظامیہ کا تجاوزات کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن جاری,24 گھنٹے کا الٹی میٹم!

پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار میں پھیلائی گئی غفلت، سستی اور مجرمانہ نااہلی کے سیاہ دور کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

پچھلی نالائق حکومت کی دہائیوں پر محیط روایتی سستی اور مفاہمت نے صوبے کے بازاروں کو تجاوزات کا گڑھ بنا دیا تھا جہاں مافیا نے کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائیں اور عوامی زندگی کو جہنم بنا دیا۔

لیکن اب سابقہ حکومت کے برعکس، موجودہ انتظامیہ نے غفلت کی اس تاریک چادر کو چاک کرتے ہوئے میدان سنبھال لیا ہے۔

صوبائی حکومت کی آہنی اور جرأت مندانہ ہدایات کے بعد کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمودکی سخت اور بے باک نگرانی میں پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع میں وہ ہنگامہ خیز صفائی مہم شروع کی گئی ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

اسی تسلسل میں ضلعی انتظامیہ قبائلی ضلع مہمند نے غلنئی بازار اور میاں منڈی گندھاب بازار میں وہ طوفانی حدبندی مکمل کر ڈالی ہے جو پچھلی حکومت کے دور میں ناممکن لگتی تھی۔ قانون کی دھجیاں اڑانے والے غیر قانونی پلازوں اور عمارتوں پر سرخ نشانات لگا کر مافیا کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کی پچھلی انتظامیہ نے ہمیشہ قابضین کو کھلی چھٹی دی اور ذاتی مفادات کی خاطر عوام کو سڑکوں پر رلایا مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے تمام تجاوزات اور شیڈز کے مالکان کو دوٹوک الفاظ میں 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سوات: مینگورہ میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن، غیر قانونی تعمیرات اور رکاوٹیں مسمار

حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے دور کی سستی اب برداشت نہیں کی جائے گی، مقررہ مہلت کے اندر تجاوزات خود ختم نہ کرنے والوں کے خلاف ایسا آہنی آپریشن ہوگا کہ مافیا کے ہوش اڑ جائیں گے۔ بھاری مشینری کے ذریعے ناجائز قبضوں کا نام و نشان مٹا کر قانون کی بالادستی ہر صورت بحال کی جائے گی۔

Scroll to Top