اسلام آباد: پاکستان کے دفاعی اور سفارتی محاذ پر تاریخی پیشرفت نے عالمی سیاست میں تہلکہ مچا دیا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت افروز حکمتِ عملی اور قیادت میں پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کی اعلیٰ قیادت کی تہران میں ایک ایسی تاریخی اور غیر معمولی بیٹھک ہوئی ہے جس نے تل ابیب سے لے کر نئی دہلی تک کھلبلی مچا دی ہے۔
مسلم دنیا کے اس چار ملکی اتحاد اور عسکری و سفارتی رابطوں کے بعد بھارت اور اسرائیل کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھ چکی ہے، جبکہ صیہونی اور مودی کے پے رول پر چلنے والے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر بوکھلاہٹ میں عجیب و غریب پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا ہے۔
تہران میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی بیٹھک محض ایک ملاقات نہیں بلکہ خطے میں ایک نئے بلاک کی بنیاد ثابت ہو رہی ہے۔
پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک میز پر بیٹھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں نے نہ صرف پاکستان کو عالمی و علاقائی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے بلکہ ان تمام ممالک کو ایک مشترکہ سکیورٹی اور معاشی ایجنڈے پر متفق بھی کر لیا ہے۔
یہ بیٹھک ان تمام دشمن عناصر کے منہ پر زوردار تھپڑ ہے جو پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہے بلکہ تمام مسلم ممالک کو جوڑنے والا سب سے مضبوط پل بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عوام کے لیے امن بھی اور روزگار بھی، پختونخوا انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کا مشترکہ ایکشن پلان جاری
اس تاریخی بیٹھک کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے اعصاب پر شدید خوف طاری ہو چکا ہے۔
دہلی کا اضطراب: بھارت جو پچھلے کچھ عرصے سے خطے میں تنہا کرنے کا پراپیگنڈا کر رہا تھا، اب دیکھ رہا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل کے ایک اشارے پر خطے کی سب سے بڑی طاقتیں ایک صف میں کھڑی ہو چکی ہیں۔
اسرائیلی چیخیں: صیہونی ریاست جو مشرقِ وسطیٰ میں من مانی کی کوششوں میں تھی، اس چار ملکی بلاک کے بعد شدید دباؤ میں آ چکی ہے کیونکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن نے صیہونی اور بھارتی گٹھ جوڑ کی تمام ناپاک سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
اس تاریخی کامیابی کو ہضم نہ کرتے ہوئے، دشمن کے نیٹ ورکس اور ان کے آلاتِ کار سوشل میڈیا پر منفی، من گھڑت اور گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔
جعلی اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل ٹرولز کے ذریعے اس تاریخی اتحاد کو متنازع بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس وقت مودی اور نیتن یاہو کے ذہنوں پر سوار ہیں اور ان کا ہر قدم دشمن کی صفوں میں افراتفری پھیلا رہا ہے۔





