سانس کے مریضوں کے لیے مشکلات بڑھ گئیں، آکسیجن سلنڈر ہزاروں روپے مہنگے

ریحان خان روغانی

پشاور: پشاور میں آکسیجن سرجیکل سامان، اینٹی بائیوٹکس، کینولا اور سرنجوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 

طبی اشیاء مہنگی ہونے سے علاج معالجے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جبکہ آکسیجن پر انحصار کرنے والے مریضوں کے لیے گھروں میں علاج جاری رکھنا بھی مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

پشاور میں آکسیجن سلنڈروں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق 48 کیوبک فٹ آکسیجن سلنڈر کی قیمت 3 ہزار روپے اضافے کے بعد 13 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 کیوبک فٹ سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 4 ہزار روپے اضافے کے بعد یہ 14 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سینے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا درجنوں مریض ایسے ہیں جنہیں گھروں میں آکسیجن استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وہ کر دکھایا جو دہائیوں میں کوئی نہ کر سکا، شہریوں کا خراجِ تحسین

قیمتوں میں اضافے کے باعث ان مریضوں کے اہل خانہ کو علاج جاری رکھنے کے لیے پہلے سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے، جس سے ان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب سرجیکل سامان، کینولا، سرنجوں اور اینٹی بائیوٹکس کی قیمتیں بڑھنے سے مریضوں کے علاج کے مجموعی اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔

طبی آلات مہنگے ہونے کے باعث آپریشن کے اخراجات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے مریضوں اور ان کے لواحقین کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں سرجیکل سامان کی بعض اقسام کی عدم دستیابی بھی سامنے آ رہی ہے، جبکہ بعض اشیاء مبینہ طور پر بلیک میں فروخت کی جا رہی ہیں۔

اس صورتحال کے باعث مریضوں کو مطلوبہ طبی سامان کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے اور بعض صورتوں میں انہیں اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

آکسیجن اور دیگر ضروری طبی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے علاج معالجے تک رسائی اور مریضوں کے اخراجات کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔

خصوصاً گھروں میں آکسیجن استعمال کرنے والے مریضوں کے لیے قیمتوں میں یہ اضافہ ایک اضافی مالی بوجھ بن گیا ہے۔

Scroll to Top