وزیراعظم یوتھ کروم بُک اسکیم کی اہلیت اور طریقہ کار کی تفصیلات جاری

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نویں جماعت کے امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانے والے مستحق اور ہونہار طلبہ کے لیے وزیراعظم یوتھ کروم بُک اسکیم متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں 5 لاکھ ری فربشڈ کروم بُکس تقسیم کی جائیں گی۔

 اس اقدام کا مقصد طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں بہتر انداز میں ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

وزیراعظم یوتھ کروم بُک اسکیم پر وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزیراعظم یوتھ پروگرام مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ٹی ٹی کیئر فاؤنڈیشن نے کروم بُکس فراہم کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں مستحق طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی۔

اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے طلبہ کے لیے ضروری ہوگا کہ انہوں نے ایس ایس سی ون، یعنی نویں جماعت کے تازہ ترین امتحانات میں کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان حکومت کو کون غلط گائیڈ کر رہا ہے؟ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا حقائق کے منافی بیان شواہد کی روشنی میں مسترد

طلبہ کے امتحانی نتائج کی تصدیق انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کرے گا، جبکہ امیدواروں کا انتخاب ہر صوبے یا علاقے، متعلقہ تعلیمی بورڈ اور تعلیمی شعبے کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

اس اسکیم میں سرکاری اسکولوں، صوبائی تعلیمی فاؤنڈیشنز کے زیرِ انتظام نجی اسکولوں اور رجسٹرڈ مدارس میں زیرِ تعلیم طلبہ بھی شامل ہوں گے۔ یوں مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے اہل طلبہ کو ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت مختلف صوبوں اور علاقوں کے لیے کروم بُکس کا کوٹہ بھی مختص کیا گیا ہے۔ پنجاب کو ایک لاکھ 81 ہزار 90، سندھ کو 85 ہزار 925، خیبرپختونخوا کو 51 ہزار 170 اور بلوچستان کو 31 ہزار 815 کروم بُکس فراہم کی جائیں گی۔

اسی طرح اسلام آباد کے لیے ایک لاکھ، آزاد جموں و کشمیر کے لیے 25 ہزار اور گلگت بلتستان کے لیے بھی 25 ہزار کروم بُکس مختص کی گئی ہیں۔

تقسیم کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہر علاقے کے مختص کوٹے میں سے 80 فیصد کروم بُکس اسکولوں کے طلبہ جبکہ 20 فیصد مدارس کے طلبہ کو دی جائیں گی۔ اسکولوں کے طلبہ کے حصے میں سے 70 فیصد ڈیوائسز سائنس اور 30 فیصد آرٹس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مختص ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

کروم بُکس کی تقسیم سے قبل متعلقہ حکام طلبہ کے امتحانی نتائج، داخلے اور تعلیمی ادارے سے وابستگی کی تصدیق کریں گے۔ تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد ڈیوائسز کوریئر سروس کے ذریعے منتخب طلبہ تک پہنچائی جائیں گی، تاکہ تقسیم کے عمل کو منظم اور شفاف بنایا جا سکے۔

اسکیم میں نگرانی کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ طلبہ کے انتخاب، دستاویزات کی تصدیق یا کروم بُک موصول نہ ہونے سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ اس طریقہ کار کا مقصد تقسیم کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنا اور مستحق طلبہ کو ان کا حق فراہم کرنا ہے۔

وزیراعظم یوتھ کروم بُک اسکیم کو ملک میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کے مواقع فراہم کرنے اور تعلیمی سرگرمیوں میں ڈیجیٹل وسائل کے استعمال کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

Scroll to Top