تھانوں میں سڑتی گاڑیاں، آخر ذمہ دار کون؟ اہم اجلاس میں بڑا مطالبہ

پشاور: نیشنل انفلونسرز کے زیراہتمام ضابطہ فوجداری کے تحت کیس پراپرٹی مینجمنٹ بلخصوص گاڑیوں کی ضبطگی اور سپرداری نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اس اجلاس کا مقصد مؤثر انصاف کی فراہمی کو فروغ دینا، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور فوجداری نظامِ انصاف میں گاڑیوں اور دیگر ضبط شدہ املاک کے انتظام سے متعلق اصلاحات کو زیرِ بحث لانا تھا۔

یہ مشاورتی اجلاس ایک مقامی ریسٹورنٹ میں منعقد ہوا جس میں وکلاء، سرکاری حکام، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور میڈیا کے ارکان نے شرکت کی۔ شرکاء نے کیس پراپرٹی مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے سے متعلق قانونی اور انتظامی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ضبط شدہ گاڑیوں کے انتظام کا موجودہ نظام اکثر طویل عرصے تک املاک کو پولیس تحویل میں رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ کئی چھوٹے اور تکنیکی نوعیت کے مقدمات میں گاڑیاں مہینوں اور بعض اوقات سالوں تک بند رہتی ہیں، جس سے نہ صرف انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ متاثرہ افراد کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کب اور کہاں ہوگی؟ اہم اعلان سامنے آگیا

شرکاء نے نشاندہی کی کہ اکثر متاثرین کے لیے ضبط شدہ گاڑیاں آمدن کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہیں اور طویل ضبطی ان کی معاشی زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اس لیے قانونی اور انتظامی نظام کو اس طرح ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ قانون نافذ کرنے کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کے معاشی اور انسانی حقوق کا بھی تحفظ ہو سکے۔

مزید برآں، شرکاء نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کیس پراپرٹی کے غیر مؤثر انتظام کے باعث املاک کی حالت خراب ہونے، سرکاری ذخیرہ کرنے کے اخراجات میں اضافے اور فوجداری نظام میں تاخیر جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ قانونی ماہرین نے تجویز دی کہ ضابطہ فوجداری کے تحت ضبط شدہ املاک خصوصاً گاڑیوں کے انتظام، دستاویزات اور بروقت نمٹانے کے طریقہ کار کو واضح اور مؤثر بنایا جائے۔

اجلاس میں موجود سرکاری نمائندوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش آپریشنل چیلنجز کو تسلیم کرتے ہوئے پالیسی اور انتظامی اصلاحات کے امکانات کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے زور دیا کہ شفاف اور مؤثر کیس پراپرٹی مینجمنٹ نظام عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتا ہے اور احتساب کو فروغ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب

شرکاء نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ ضبط شدہ املاک کی جدید ریکارڈ مینجمنٹ، ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ اس کے علاوہ چھوٹے جرائم کے متاثرین کی معاشی اور سماجی بہبود کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

مشاورتی اجلاس کے اختتام پر نیشنل انفلونسرز کی طرف سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے، شواہد پر مبنی پالیسی مکالمے کو فروغ دینے اور انصاف کے نظام میں اصلاحات کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

Scroll to Top