طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب، گرفتار سرغنہ کے اہم انکشافات

Pakistan SCO Summit 2026

سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ایک خارجی دہشتگرد نے مبینہ طور پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان گٹھ جوڑ سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کے سرغنہ عامر سہیل نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس گروہ میں شامل ہوا، اس نے بتایا کہ اسے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں قائم ایک مرکز میں دہشتگردی کی تربیت دی گئی۔

گرفتار دہشتگرد کے مطابق افغانستان میں موجود ان مراکز کو افغان طالبان کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہے جبکہ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے روابط داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ بھی رہے ہیں۔

عامر سہیل نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں افغانستان سمیت دیگر غیر ملکی ذرائع سے مالی معاونت ملتی رہی، جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا نام بھی لیا گیا، اسکے مطابق اس کے نیٹ ورک میں 20 سے زائد دہشتگرد شامل تھے جن میں افغان شہری بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا ضلع خیبر میں خوارج کے خلاف آپریشن جاری، متعدد دہشتگرد ہلاک ہونے کی اطلاعات

گرفتار ملزم نے بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا اور بتایا کہ اسے پشاور میں علاج کی غرض سے آنے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا۔

گرفتار دہشتگرد کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گروہ محض مالی مفادات کے لیے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top