لوئر دیر،کمسن بچے سے زیادتی کے جرم میں امام مسجد کو 21 سال قید کی سزا

Pakistan SCO Summit 2026

ظفرعلی شاہ

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چکدرہ ندیم اختر نے سات سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر مسجد کے امام کو مجموعی طور پر 21 سال قید اور 11 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ مجرم نے نہ صرف معصوم بچے کو ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ مسجد جیسے مقدس مقام کی حرمت کو بھی پامال کیا۔

کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ نے ٹھوس شواہد پیش کیے جس کے بعد عدالت نے مجرم قاری باچا سلطان،ساکنہ شاہ ڈھیری سوات کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت 14 سال قیدِ بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

علاوہ ازیں خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مجرم کو مزید 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیا گیا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید ایک سال قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 4 نومبر 2024 کو تھانہ اوچ کی حدود میں پیش آیا تھا جہاں ادینزئی کی ایک مقامی مسجد کے پیش امام نے نمازِ عصر کے بعد سات سالہ بچے کو مسجد کے حجرے میں لے جا کر زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے بچے کے چچا کی مدعیت میں فوری طور پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا تھا جو تب سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھا۔

عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کوسزا سناتے ہوئے عدالتی فیصلہ جاری کر دیا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top