پاکستان کے ٹکڑے کرنے کا خوفناک منصوبہ، سی آئی اے کی سابق عہدیدار سارہ ایڈمز کا فضل الرحمان اور القاعدہ کے گٹھ جوڑ پر سنسنی خیز انکشاف

پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے خلاف ایک انتہائی تشویشناک اور ہولناک بین الاقوامی سازش کا انکشاف سامنے آیا ہے جس میں طالبان، القاعدہ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان پاکستان کو تقسیم کرنے کا ایک مشترکہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث اس رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی سابقہ آپریٹو سارہ ایڈمز نے اب سے 3 سال قبل ایک انٹرویو میں انتہائی سنسنی خیز انکشافات کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان، القاعدہ اور مولانا فضل الرحمان نے مل کر پاکستان کو ٹکڑے کرنے اور پشتونستان پر قبضہ کرنے کا ایک باقاعدہ فریم ورک تیار کیا ہے، جسے فاٹا وار پلان کا نام دیا گیا۔

سارہ ایڈمز کے انکشافات کے مطابق اس مبینہ منصوبے کا بنیادی مقصد پاکستان کے قبائلی علاقوں (سابقہ فاٹا)، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبوں پر کنٹرول حاصل کر کے ملکی جغرافیے کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے بیان کی مذمت، شہداء کے حق میں متفقہ طور پر قرارداد منظور

اس منصوبے میں مبینہ طور پر القاعدہ، طالبان اور پاکستان کی ایک بڑی مذہبی و سیاسی جماعت کے سربراہ کا ایک پیج پر ہونا ملکی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top