ملک میں رواں کاٹن سیزن کے آغاز سے 15 جولائی 2026 تک کپاس کی مجموعی قومی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ریکارڈ 77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ سندھ نے پیداوار میں پنجاب کو نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 15 جولائی تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 5 لاکھ 27 ہزار 900 روئی کی گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2 لاکھ 30 ہزار 149 گانٹھیں، یعنی 77 فیصد زیادہ ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق سندھ میں کپاس کی پیداوار میں 114 فیصد جبکہ پنجاب میں 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 2 لاکھ ایک ہزار 500 جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 3 لاکھ 26 ہزار 400 گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران ٹیکسٹائل ملوں نے 4 لاکھ 44 ہزار 379 گانٹھوں کی خریداری کی، جبکہ اس وقت پنجاب میں 111 اور سندھ میں 107 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا نے ایران کے خلاف نئی کارروائیاں شروع کردیں، متعدد شہر لرز اٹھے
احسان الحق کا کہنا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ پنجاب کی بعض جننگ فیکٹریوں میں آنے والی کپاس کا بڑا حصہ سندھ سے منتقل کیا گیا، جبکہ پنجاب کے کاٹن زونز میں گنے کی غیر معمولی کاشت بھی کپاس کی نسبتاً کم پیداوار کی ایک اہم وجہ قرار دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گزشتہ ہفتے خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمدات میں تاخیر کے خدشات کے سبب مقامی مارکیٹ میں روئی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی اور پنجاب میں فی من قیمت 19 ہزار جبکہ سندھ میں 18 ہزار 800 روپے تک پہنچ گئی۔
تاہم کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مارکیٹ کا رجحان تبدیل ہوگیا اور ہفتے کے روز مقامی منڈیوں میں فی من روئی کی قیمت میں تقریباً 300 روپے کمی ریکارڈ کی گئی۔





