پاکستان ریلوے کا پرانا اور خستہ حال انفرااسٹرکچر مسافروں، ملازمین اور تاجروں کے لیے مسلسل مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ مسافر اور مال بردار ٹرینیں کم رفتار پر چلنے کے باوجود حادثات کا شکار ہونے لگی ہیں، جس سے انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ صنعت کاروں اور تاجروں کا قیمتی سامان بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران ٹرین حادثات کے متعدد واقعات نے ریلوے کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ حالیہ سیلاب نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فیصل آباد اور براستہ فیصل آباد کراچی سمیت دیگر شہروں کے لیے چلنے والی ریل سروس عارضی طور پر معطل ہونے سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے، جبکہ ریلوے انتظامیہ کو بھی روزانہ کی بنیاد پر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
ڈیڑھ سو سال پرانا انفرااسٹرکچر مسائل کی بڑی وجہ
پاکستان ریلوے کا موجودہ نظام برطانوی دور کا تعمیر کردہ ہے، جس کا بڑا حصہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ ریلوے ٹریک کی کمزوری کے باعث مسافر اور مال بردار ٹرینیں اپنی مقررہ رفتار سے چلنے کے بجائے انتہائی کم رفتار پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
ریلوے ذرائع کے مطابق اگر ٹرینوں کی رفتار بڑھانے کی کوشش کی جائے تو ٹریک کی حالت کے باعث پٹڑی سے اترنے یا حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرائیورز کو کئی مقامات پر مقررہ رفتار کے بجائے کم رفتار پر ٹرین چلانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
ہزاروں کلومیٹر ٹریک پر رفتار محدود
ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے کے تقریباً 2 ہزار کلومیٹر ٹریک میں سے بڑی تعداد ایسے حصوں پر مشتمل ہے جہاں ٹرینیں اپنی اصل رفتار سے نہیں چل سکتیں۔ متعدد مقامات پر انجینئرنگ ریسٹرکشنز نافذ ہیں، جس کے باعث ڈرائیورز کو رفتار کم رکھنا پڑتی ہے۔
مسافر ٹرینوں کی مقررہ رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہے، تاہم کئی مقامات پر یہ رفتار 55 سے 78 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود ہے۔ بعض ٹریکس پر اگر رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچتی بھی ہے تو ڈرائیورز کو حفاظتی اقدامات کے تحت رفتار کم کرنا پڑتی ہے۔
ٹرینوں کی آمدورفت میں گھنٹوں تاخیر
ریلوے ٹریک کی خراب حالت کے باعث ٹرینوں کی روانگی اور آمد میں کئی گھنٹوں کی تاخیر معمول بنتی جا رہی ہے۔ مسافروں کو شدید گرمی اور حبس میں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ ٹرین ڈرائیورز بھی مسلسل دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔
کئی مواقع پر ریلوے انتظامیہ کو ٹرینیں منسوخ کرکے مسافروں کو دوسری گاڑیوں میں ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔ کراچی سے پشاور تک مختلف مقامات پر ٹریک کی مرمت کے ذریعے نظام کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں نئی MG ZS متعارف، قیمت اور فیچرز سامنے آ گئے
سکھر کراچی ریلوے ٹریک سب سے زیادہ متاثر
ذرائع کے مطابق سکھر سے کراچی تک کا ریلوے ٹریک سب سے زیادہ خراب حالت میں ہے، جہاں مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے لیے متعدد انجینئرنگ ریسٹرکشنز موجود ہیں۔ اس روٹ پر ٹرینوں کی اوسط رفتار 30 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رہ گئی ہے۔
ملتان، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے روٹس پر بھی صورتحال مکمل طور پر بہتر نہیں، جہاں کئی مقامات پر رفتار محدود ہے۔ ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کے لیے سی پیک کے تحت ایم ایل ون منصوبہ بھی زیر بحث رہا، تاہم عملی کام شروع نہ ہونے سے مسائل برقرار ہیں۔
سیلاب نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا
حالیہ سیلاب نے ریلوے نظام کو مزید متاثر کیا ہے۔ فیصل آباد کے مسافروں کے لیے لاہور سمیت دیگر شہروں اور کراچی کے سفر میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ قلعہ ستار شاہ کے قریب ریلوے پل کو نقصان پہنچنے کے باعث ٹرین سروس متاثر ہوئی، جبکہ براستہ فیصل آباد کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی۔
متاثرہ مسافروں کو متبادل ذرائع سے سفر کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ پل کی بحالی کا کام بھی سیلابی صورتحال کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
ریلوے انتظامیہ کی ترجیحات پر سوالات
دوسری جانب ریلوے انتظامیہ کی توجہ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز ہے، جبکہ ریلوے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے منصوبے ابھی عملی مرحلے تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھیں : ایپل نے نئی فنانسنگ اسکیم متعارف کرا دی، آئی فون سمیت ڈیوائسز آسان اقساط پر دستیاب ہوں گی
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان ریلوے نے 115 ارب روپے آمدنی حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق ملکی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ساتھ اہم معاملات طے کیے جا چکے ہیں جبکہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ریلوے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال کراچی اور سکھر ڈویژن میں اربوں روپے کی لاگت سے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام شروع کیا جائے گا۔
ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن اور نئی سہولیات
وفاقی وزیر کے مطابق لاہور، کراچی، فیصل آباد اور راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن مکمل ہو چکی ہے، جبکہ مسافروں کو بروقت سفر، بہتر سہولیات اور جدید خدمات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بھی نئی ٹرین سروسز چلائی جا رہی ہیں، جہاں مسافروں کو آرام دہ نشستوں اور بہتر کھانے پینے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
تاہم ریلوے ماہرین کے مطابق محفوظ اور تیز رفتار سفر کے لیے سب سے اہم ضرورت ٹریک، پلوں اور بنیادی انفرااسٹرکچر کی فوری اپ گریڈیشن ہے، کیونکہ جدید اسٹیشنز کے ساتھ مضبوط ریلوے نظام کے بغیر مسافروں کو درپیش بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔





