پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کا دوسرا اور آخری میچ آج سے شروع ہوگا۔
قومی ٹیم کو سیریز برابر کرنے کے لیے لازمی فتح درکار ہے، میزبان ویسٹ انڈیز کو سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔
دوسرے ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم میں چند تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، شان مسعود کی عدم دستیابی کے باعث ون ڈاؤن پوزیشن پر تبدیلی متوقع ہے جبکہ پہلے ٹیسٹ میں ناکام رہنے والے اسپنر علی عثمان کی جگہ ساجد خان کو شامل کیے جانے کا امکان ہے خاص طور پر اگر پچ اسپنرز کے لیے سازگار ہوئی۔
عبداللہ شفیق اور سعود شکیل نے اسکواڈ جوائن کرنے کے بعد ٹریننگ شروع کر دی ہے اور امکان ہے کہ دونوں کھلاڑی دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
آل راؤنڈر عامر جمال کی کارکردگی کے بعد فاسٹ باؤلر عبید شاہ کو بھی زیر غور لایا جا رہا ہے جو اپنی تیز رفتار باؤلنگ سے ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
کپتان بابر اعظم اور ٹیم مینجمنٹ پچ کا جائزہ لینے کے بعد حتمی ٹیم کا فیصلہ کریں گے کہ سات بیٹرز کے ساتھ میدان میں اترنا ہے یا چھ بیٹرز کے ساتھ۔
یہ بھی پڑھیں: ہاکی ٹیسٹ سیریز: پاکستان نے جنوبی کوریا کو مسلسل دوسری بار شکست دے دی
قومی ٹیم کو بیرون ملک مسلسل آٹھویں ٹیسٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے کامیابی کے لیے حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے۔
کپتان بابر اعظم نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں غلطیوں کی وجہ سے شکست ہوئی تاہم ٹیم دوسرے میچ میں بہتر کارکردگی دکھا کر سیریز برابر کرنے کے لیے پرامید ہے، انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز آسان حریف نہیں، لیکن تمام کھلاڑی فتح کے لیے پرعزم ہیں۔





