نور علی وزیر
جنوبی وزیرستان اپر: سرکاری اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت دینے کے معاملے پر اعتراضات سامنے آگئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان اپر کے سابق میئر سرویکئی شاہ فیصل غازی نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو کسی صورت نجی شراکت داری کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔
محسود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ فیصل غازی کا کہنا تھا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کی مکمل فعالیت اور بہتری کے لیے واضح اور مؤثر پالیسی مرتب کرے، تاکہ تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے محکمہ صحت میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مولے خان اسپتال نجی ادارے کے سپرد کیے جانے کے بعد ابتدائی تین سال تک فعال رہا، تاہم گزشتہ تین سال سے بند پڑا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا پولیس میں بڑا فیصلہ، انوسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ کرنے کا اعلان
سابق میئر نے دعویٰ کیا کہ محکمہ تعلیم کے حکام بھی اس بات سے لاعلم ہیں کہ کن بنیادوں پر اسکولوں کو پی پی پی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عوام کو اس انتخاب کے معیار سے آگاہ کیا جائے۔
شاہ فیصل غازی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فعال سرکاری اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے اور سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو عوام کے ساتھ مل کر قانونی اور جمہوری طریقوں سے احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔





