پشاور: خیبر پختونخوا پولیس کے نظام میں اہم اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت پولیس کے انوسٹی گیشن (تفتیش) اور آپریشن ونگ کو مکمل طور پر الگ کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے بتایا کہ انوسٹی گیشن ونگ کو انتظامی اور مالی خودمختاری فراہم کی جائے گی، جبکہ اسے اے آئی جی کی سطح سے ضلعی سطح تک الگ کمانڈ سٹرکچر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد تفتیشی نظام میں بہتری، شفافیت اور کرمنل جسٹس سسٹم کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
آفتاب عالم کا کہنا تھا کہ حکومت پراسیکیوشن سسٹم کو بھی مزید مضبوط اور جوابدہ بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
پراسیکیوشن کی ناقص کارکردگی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا، جبکہ پولیس انوسٹی گیشن کو آپریشن ونگ سے مکمل انتظامی آزادی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے بعد مقدمات کی تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلوانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انوسٹی گیشن ونگ کو مالی اور انتظامی اختیارات دینے سے تفتیشی افسران زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : گرمیوں کی تعطیلات ختم، وفاقی سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں آج سے تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع
صوبائی وزیر قانون کے مطابق پولیس ایکٹ ترمیمی بل کا مسودہ جلد حتمی شکل دے دیا جائے گا، جس کے تحت ضلعی، ریجنل اور صوبائی سطح پر الگ انوسٹی گیشن چین قائم کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اصلاحات سے جرائم کی روک تھام، عوام کو بہتر انصاف کی فراہمی اور تفتیشی نظام میں بہتری کی توقع ہے۔
جدید پولیسنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک آزاد اور مضبوط انوسٹی گیشن نظام ناگزیر ہے، جبکہ اس سے ملزمان کی بریت کی شرح کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔





