نایاب سورج گرہن دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے، ماہرین

نایاب سورج گرہن دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے، ماہرین نے خبردار کردیا

 رواں ماہ کی 12 تاریخ کو دنیا بھر میں لاکھوں افراد رواں آسمان پر ایک نایاب مکمل سورج گرہن کے نظارے کا مشاہدہ کریں گے، ماہرین فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھوں سے دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے اسے صرف منظور شدہ سولر ایکلیپس چشموں یا محفوظ مشاہداتی آلات کے ذریعے ہی دیکھا جائے۔

ماہرین کے مطابق اس مکمل سورج گرہن کا گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین، شمالی بحرِ اوقیانوس اور شمالی روس میں مشاہدہ کیا جا سکے گا جہاں چاند مکمل طور پر سورج کو ڈھانپ لے گا اور چند لمحوں کے لیے سورج کا بیرونی حصہ (جسے کورونا کہا جاتا ہے) نمایاں نظر آئے گا۔
اس سورج گرہن کو عرب ممالک میں نہیں دیکھا جا سکے گا، البتہ، شمالی افریقا، خصوصاً مغربی افریقی خطے کے بعض علاقوں میں غیرمعمولی حد تک جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔
الجزائر میں بعض مقامات پر سورج کا تقریباً 96 فی صد حصہ چاند سے ڈھک جائے گا، جو خطے میں سب سے نمایاں منظر ہوگا،ماہرین فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھوں سے دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے اسے صرف منظور شدہ سولر ایکلیپس چشموں یا محفوظ مشاہداتی آلات کے ذریعے ہی دیکھا جائے۔

Scroll to Top