اسلام آباد: اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے آزاد کشمیر سے متعلق احتجاج کے مقدمے میں گرفتارسابق سینیٹر مشتاق احمد اور شریک ملزم دانیال کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج رخشندہ شاہین کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش کے دوران گاڑی اور اسلحہ برآمد کرنا مقصود ہے، جس کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

پراسیکیوشن نے عدالت سے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی اجازت دی۔
یاد رہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد، دانیال اور دیگر افراد کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں آزاد کشمیر سے متعلق ہونے والے احتجاج کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان نے تھانہ شالیمار میں اپنے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی،سابق سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر شرکاء کے خلاف درج مقدمے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے آئینی اور جمہوری حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا مذمتی بیان
تحریک تحفظ آئین پاکستان اسلام آباد کے سیکٹر F-10 مرکز میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہونے والے پرامن احتجاج کے بعد ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی، سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر شرکاء کے خلاف تھانہ شالیمار میں… pic.twitter.com/srwCjaLSzv
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) August 3, 2026
تحریک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف-10 میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہونے والے پُرامن احتجاج کے بعد مقدمہ درج کرنا قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرنا جرم نہیں بلکہ ایک اخلاقی، انسانی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں پولیس اور پاک فوج شانہ بشانہ
بیان کے مطابق پُرامن مظاہرین کے خلاف مقدمات کا اندراج آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق، خصوصاً آزادیِ اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کے حق، کی خلاف ورزی ہے۔ تحریک نے مؤقف اختیار کیا کہ اختلافی آوازوں کو مقدمات، دباؤ اور ہراسانی کے ذریعے دبانے کی ہر کوشش ناقابلِ قبول ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی،سابق سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر شرکاء کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور مستقبل میں شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق میں مداخلت سے گریز کیا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کا سلسلہ جاری رہے گا اور آئین، قانون اور جمہوری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کسی دباؤ، مقدمے یا دیگر ہتھکنڈوں سے نہیں روکی جا سکتی۔





