پشاور: شہر میں بڑھتے ہوئے قتل اور پرتشدد واقعات نے امن و امان کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مختلف کارروائیوں اور آپریشنز کے باوجود غیر قانونی اسلحہ کی روک تھام مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکی، جس کے باعث آئے روز فائرنگ اور قتل کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
پشاور میں اسلحہ کی آسان دستیابی، پرانی دشمنیوں، جائیداد کے تنازعات، لین دین کے معاملات اور دیگر اختلافات کے باعث قتل و مقاتلے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھر گھر اسلحہ موجود ہونے کی وجہ سے معمولی تنازعات بھی خونریز واقعات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
رواں ہفتے شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ فقیر آباد میں معمولی تنازعہ پر مسلح تصادم کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ چار زخمی ہوئے۔ اسی طرح داور زئی اور خزانہ نادرن بائی پاس کے علاقوں میں بھی دو شہریوں کو قتل کر دیا گیا۔
قمر دین گھڑی کے علاقے میں چنگ چی رکشے میں سوار تاوڑ جبہ کے رہائشی محمد امین کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا، جبکہ ارمز کے علاقے میں بھٹہ خشت کے ایک نوجوان کو بھی نامعلوم ملزمان نے نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں : ڈینگی کیسز میں اضافہ، خیبرپختونخوا میں تعداد 250 تک پہنچ گئی
پلوصی قبرستان کے تنازعے پر ہونے والی فائرنگ کے دوران ایک راہگیر ٹیلر ماسٹر بھی جان کی بازی ہار گیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں اشتہاری ملزمان کی جانب سے تہکال تھانے پر حملے اور رحمان بابا کے علاقے میں مسلح افراد کی جانب سے کھلے عام فائرنگ کے واقعات نے بھی تشویش میں اضافہ کیا۔ ان واقعات کے بعد دو پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر قتل کے واقعات جائیداد کے تنازعات، لین دین، خواتین سے متعلق معاملات اور دیگر ذاتی دشمنیوں کی وجہ سے پیش آ رہے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کے مطابق پشاور کی جغرافیائی اہمیت اور قبائلی علاقوں و افغانستان سے قربت کے باعث شہر میں امن و امان برقرار رکھنا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جانب سے اسلحہ تک آسان رسائی اور غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔





