طالبان انٹیلی جنس سے مبینہ لیک دستاویزات، سوشل میڈیا نیٹ ورک سے متعلق نئے دعوے سامنے آگئے

مبینہ طور پر طالبان کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) سے متعلق لیک ہونے والی دستاویزات کے بعد ایک ایسے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے بارے میں دعوے سامنے آئے ہیں، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ طالبان کے حق میں آن لائن بیانیہ تشکیل دینے کے لیے سرگرم ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک میں شامل بعض سوشل میڈیا کارکن مختلف پلیٹ فارمز پر طالبان کے حامی مواد کی تشہیر کرتے ہیں۔ مبینہ طور پر یہ افراد مختلف ٹرول اکاؤنٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز کو بھی منظم کرتے ہیں۔

دستاویزات سے متعلق دعووں میں کہا گیا ہے کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جن میں ASF، Wahida، Al Mirsad، Ustad Burmak، Islamabad Post اور Info Monitor شامل ہیں، ان سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان افراد کو افغان جرنلز اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل ہے اور وہ بعض اوقات ان پلیٹ فارمز پر غلط معلومات یا مخصوص بیانیے پر مبنی مواد شیئر کرتے ہیں۔

مبینہ دستاویزات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ اکاؤنٹس جیسے Nuqta، War Globe، Huriyat اور Markhor Facts بھی اسی نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، خوارج کے ٹھکانے تباہ، متعدد ہلاک

رپورٹ کے مطابق ان سوشل میڈیا آپریٹرز کو مبینہ طور پر ماہانہ 3 ہزار 500 سے 4 ہزار ڈالر تک معاوضہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر طالبان کے حق میں بیانیہ کو فروغ دیں۔

دوسری جانب ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ طالبان کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ میں افغانستان کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جہاں عام شہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، وہیں مبینہ طور پر آن لائن پروپیگنڈا سرگرمیوں پر اخراجات کیے جا رہے ہیں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر علامہ اقبال کا یہ شعر بھی شیئر کیا گیا:

اللہ کو پامردی مومن پر بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

Scroll to Top