رومانیہ سے بہن کی شادی میں شرکت کے لیے وطن آنے والا ڈاکٹر کبل دھماکے میں شہید

شہزاد نوید

سوات: کبل پولیس اسٹیشن کے باہر امن مظاہرے کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں میں رومانیہ سے بہن کی شادی میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے نوجوان ڈاکٹر معاذ بھی شامل ہیں، جن کی المناک موت نے پورے خاندان کو غم میں ڈبو دیا۔

اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹر معاذ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور چند روز قبل رومانیہ سے اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے وطن واپس آیا تھا۔ بدقسمتی سے شادی سے ایک روز قبل وہ کبل چوک میں ہونے والے خودکش دھماکے کی زد میں آکر شہید ہوگیا۔

ڈاکٹر معاذ کے چچا جہانزیب نے بتایا کہ معاذ رومانیہ میں ڈی وی ایم مکمل کرنے کے بعد ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ وہ بہن کی شادی میں شرکت اور اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش لیے پاکستان آیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے روز گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں اور بہن کے سسرال سے مہمان بھی آئے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر معاذ ان کے لیے خریداری کرنے کبل بازار گیا تھا۔ عصر کی نماز تک اس نے بیشتر سامان خرید لیا تھا اور آخر میں کبل تھانے کے قریب سے کباب لینے جانا تھا، تاہم اسی دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں وہ شہید ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں : سوات کبل واقعہ، تحقیقات میں اہم پیش رفت، حملہ آور کی شناخت ہوگئی، آئی جی خیبر پختونخوا

چچا کے مطابق معاذ کے والد سمندری جہاز پر ملازمت کرتے ہیں اور طویل عرصے بعد ان کی اپنے بیٹے سے ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ والد اور بیٹے کی پانچ برس بعد ملاقات ہوئی، مگر یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور چند ہی دن بعد خاندان ایک ناقابلِ تلافی سانحے سے دوچار ہوگیا۔

ڈاکٹر معاذ کے دوست محمد سلمان نے بتایا کہ وہ روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا۔ دھماکے سے کچھ دیر پہلے اس نے کال اور پیغام بھی بھیجا تھا، لیکن موبائل سائلنٹ ہونے کی وجہ سے رابطہ نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ آخری کال اور پیغام دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ کاش آخری بار اس سے بات ہو جاتی۔

یاد رہے کہ کبل پولیس اسٹیشن کے باہر امن مظاہرے کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں ڈاکٹر معاذ سمیت 17 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ یہ واقعہ علاقے میں گہرے رنج و غم کا سبب بنا اور شہداء کے اہل خانہ سوگ کی کیفیت میں ہیں۔

Scroll to Top