جھارکھنڈ میں آسمانی بجلی نے تباہی مچا دی، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں مون سون بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق منگل کے روز ریاست کے مختلف اضلاع میں شدید بارش اور گرج چمک کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے کئی واقعات پیش آئے۔ ان حادثات سے سب سے زیادہ متاثر ضلع گریڈیہ رہا، جہاں 10 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پولیس حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر کسان اور زرعی مزدور شامل تھے، جو بارش کے باوجود کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ اچانک آسمانی بجلی گرنے سے انہیں محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا موقع نہ مل سکا۔ مختلف علاقوں میں کم از کم 7 افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد ریاستی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ضلعی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد یقینی بنائی جائے۔

دوسری جانب بھارتی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جھارکھنڈ میں آئندہ چند روز تک موسلا دھار بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ شہریوں، خصوصاً کسانوں اور کھلے میدانوں میں کام کرنے والے افراد کو خراب موسم کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیرستان سے گیس کی فراہمی کا بڑا معاہدہ، ماری انرجیز اور یو جی ڈی سی میں فریم ورک پر دستخط

ماہرین موسمیات کے مطابق مون سون کے موسم میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جس کے باعث ہر سال درجنوں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ بھارتی محکمہ موسمیات کی جنوری 2026 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے دوران جھارکھنڈ میں آسمانی بجلی اور گرج چمک سے متعلق مختلف حادثات میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی مون سون بارشوں نے شدید تباہی مچا رکھی ہے۔ شمال مشرقی ریاست آسام میں بارشوں اور سیلاب سے تقریباً 90 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ جنوبی ریاست کیرالہ میں موسلادھار بارشوں کے باعث کم از کم 15 افراد ہلاک اور ہزاروں شہری بے گھر ہو گئے ہیں۔

شدید بارشوں کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بھی متاثر ہوا ہے، جبکہ امدادی ادارے متاثرین کی بحالی اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

Scroll to Top