پشاور: پشاور ہائیکورٹ کے چار ججز کی مستقلی کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث مذکورہ ججز عدالتی امور انجام دینے سے قاصر ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 20 جولائی کو پشاور ہائیکورٹ کے چار ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی تھی، تاہم صدر مملکت کی جانب سے تاحال مستقلی کے اعلامیے پر دستخط نہ ہونے کے باعث یہ معاملہ تعطل کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت قانون کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مستقلی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک مذکورہ ججز نئے حلف کے بغیر کام جاری نہیں رکھ سکتے۔
غیر فعال ہونے والے ججز میں جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمان یوسفزئی نے صدر مملکت سے مطالبہ کیا ہے کہ ججز کی مستقلی کی سمری پر دستخط کرکے فوری طور پر اعلامیہ جاری کیا جائے تاکہ عدالتی امور متاثر نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : مردان بورڈ نے میٹرک سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ججز کی کارکردگی جانچنے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے پاس ہے، اور کمیشن نے ججز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ہی انہیں مستقل کرنے کی منظوری دی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ پہلے ہی ججز کی کمی کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں چار ججز کے غیر فعال ہونے سے عدالتی کام متاثر ہوگا، زیر التوا مقدمات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
انہوں نے صدر مملکت سے اپیل کی کہ ججز کی مستقلی کے معاملے کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ عدالتی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔





