پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل خان مروت نے پارٹی کی موجودہ صورتحال اور 27 ستمبر کی احتجاجی کال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قیادت میں صلاحیت ہوتی تو وہ سب کو ایک صف میں کھڑا کرتی، مشترکہ حکمت عملی بناتی اور پارٹی کو متحد کرتی۔
شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ آج پی ٹی آئی بکھری ہوئی اور اندرونی اختلافات کا شکار نظر آتی ہے، ایسے میں عوام 27 ستمبر کی کال سے کیا امید رکھیں؟
انہوں نے کہا کہ 26 نومبر اور مریدکے جیسے واقعات کے بعد احتجاج اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ 27 ستمبر کو احتجاج کے لیے نکلیں، انہیں احتجاج کے ساتھ اپنی جان و مال کی حفاظت کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مارچ کے لیے پہلے 20 لاکھ افراد کا ہدف، اب کم ہو کر 15 لاکھ، کیا سہیل آفریدی کو تعداد کم ہونے کا اندازہ ہوگیا؟
شیر افضل مروت نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔





