— پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی دشواریوں اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے عوام، قبائلی رہنماؤں اور طلبہ کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
پشاور یونیورسٹی کی طالبات کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ اور صوبائی حدود اب اتنی بڑی آبادی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے صوبوں کی تشکیل کے بغیر عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا ناممکن ہو چکا ہے۔
طالبات اور نوجوانوں نے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک نئے انتظامی زونز یا صوبے قائم نہیں ہوں گے، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کا معیار بہتر نہیں ہو سکتا۔ چھوٹے اور زیادہ انتظامی یونٹس بننے کی صورت میں ہر خطے اور ضلع سے جمع ہونے والا ٹیکس اور دیگر آمدن براہِ راست اسی علاقے کے مقامی ہسپتالوں، سکولوں اور انفراسٹرکچر پر صرف ہو سکے گی، جس سے جنوبی اضلاع سمیت دیگر تمام پسماندہ علاقوں کی طویل عرصے سے جاری محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
رپورٹ کے مطابق کرم اور لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے قبائلی شہریوں اور معززین نے سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد کے حالات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
قبائلی عوام کا کہنا تھا کہ 2013 اور اس کے بعد فاٹا انضمام کے وقت جو بلند و بانگ دعوے اور وعدے کیے گئے تھے، وہ وفا نہ ہو سکے اور قبائل کو ان کا جائز حق یا معاشی ریلیف نہیں مل سکا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ملک بھر میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کیے جا رہے ہیں تو قبائلی اضلاع کو ان کے مکمل اختیارات اور وسائل کے ساتھ ان کا جائز اور علیحدہ انتظامی حق ملنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : ہنگو: بابوتنگ دوہرے قتل کیس کا ڈراپ سین، مولانا یونس اور ان کے بیٹے کا قاتل بھتیجا ہی نکلا
مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے سیاسی جماعتوں کے دوہرے معیارات پر تنقید کرتے ہوئے اپیل کی کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ذاتی اور سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈالا جائے۔





