پشاور: پشاور کے علاقے یکہ توت میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران تین صوبوں اور اسلام آباد پولیس کو مطلوب ڈکیت گینگ کے چار ارکان ہلاک ہوگئے، جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹرمیاں سعید کے مطابق پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ملزمان کا تعلق وقار عرف میجر گینگ سے بتایا جاتا ہے، جو گزشتہ تقریباً 15 سال سے منظم جرائم میں سرگرم تھا۔ پولیس کے مطابق گینگ کا نیٹ ورک خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور اسلام آباد تک پھیلا ہوا تھا اور اس کے ارکان متعدد سنگین وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث اور مختلف اداروں کو مطلوب رہے۔
پولیس کے مطابق گینگ کی سربراہی پشاور کا رہائشی وقار عرف میجر کرتا تھا، جبکہ اس کے اہم ارکان اور ساتھیوں میں ساحل عرف سعود مہمند سکنہ ورسک روڈ، اعجاز عرف پہلوان سکنہ پشاور، حفیظ عرف چرّا سکنہ درہ آدم خیل/نوشہرہ، گران ولی سکنہ جلال آباد افغانستان اور علی عرف شینا سکنہ افغانستان شامل تھے۔
سی سی پی او میاں سعید کے مطابق گینگ کے ارکان مختلف مقدمات میں ایک درجن سے زائد مرتبہ نامزد اور گرفتار ہوچکے تھے اور مختلف مقدمات میں عدالتوں سے ضمانت پر بھی رہا ہوتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں : لکی امن کمیٹی کے غنڈوں نےپولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے،قومی دھارے میں شامل
پولیس حکام کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز سے مشابہ لباس اور آلات، وائرلیس و دیگر مواصلاتی آلات، وائی فائی جیمرز اور جدید اسلحہ استعمال کرتے تھے۔ ملزمان خود کو خفیہ اداروں یا سیکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے گھروں میں تلاشی کے بہانے داخل ہوتے اور بعد ازاں نقدی، سونا اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوجاتے تھے۔
پولیس ریکارڈ اور دستیاب معلومات کے مطابق گینگ کو مختلف علاقوں میں متعدد بڑی وارداتوں سے منسلک کیا گیا ہے۔ ان میں حیات آباد میں تقریباً 80 لاکھ روپے کی ڈکیتی، یکہ توت پشاور میں تقریباً 2 کروڑ روپے کی ڈکیتی، چمکنی میں ایک واردات، جبکہ ایک اعلیٰ سرکاری شخصیت کے صاحبزادے سے تقریباً 6 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کا معاملہ شامل ہے۔
اسی طرح ضلع دیر میں تقریباً 5 کروڑ روپے، سوات میں تقریباً 8 کروڑ روپے، ڈی ایچ اے کراچی میں تقریباً 8 کروڑ روپے اور راجہ بازار راولپنڈی میں تقریباً 10 کروڑ روپے کی ڈکیتیوں سے بھی گینگ کو مبینہ طور پر منسلک کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق درگئی ملاکنڈ میں گاڑی چھیننے، جھنگ میں ایم پی اے خالد سرگانہ کے گھر مبینہ ڈکیتی، فیصل آباد میں ایک غیر ملکی شہری کے گھر مبینہ ڈکیتی، جبکہ سندھ میں ایک رکن صوبائی اسمبلی کے گھر مبینہ ڈکیتی کے واقعات میں بھی گینگ کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور:رحیم آباد میں فائرنگ، 50 سالہ شخص جاں بحق، راہگیر زخمی
سندھ کی واردات میں تقریباً 167 تولے سونا لوٹے جانے کی اطلاع ہے۔ لاہور میں بھی گینگ کے ارکان کے متعدد ڈکیتیوں اور راہزنی کی وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
سی سی پی او میاں سعید کے مطابق گینگ پر گاڑیاں چھیننے اور چوری کرنے، اغوا برائے تاوان، مسلح ڈکیتیوں، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ روابط کے الزامات بھی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وقار عرف میجر گینگ ایک منظم بین الصوبائی مجرمانہ نیٹ ورک کے طور پر کام کرتا رہا، جس کی سرگرمیاں پشاور سے ملاکنڈ، دیر، سوات، راولپنڈی، اسلام آباد، پنجاب اور کراچی تک رپورٹ ہوئیں۔
پولیس کی جانب سے گینگ کے خلاف مختلف صوبوں اور اضلاع میں درج مقدمات، سابقہ گرفتاریوں، عدالتی ریکارڈ اور دیگر جرائم سے روابط کی مکمل تفصیلات بھی مرتب کی جارہی ہیں۔
تھانہ یکہ توت میں ہونے والے پولیس مقابلے کے دوران چار ڈاکوؤں کی ہلاکت کے بعد فرار ہونے والے دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔





