پشاور: خیبرپختونخوا میں صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں اور حراست میں لیے جانے کے واقعات پر وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے آئی جی پولیس ذولفقار حمیدکو خط ارسال کردیا، جس میں ان کارروائیوں کو غیر آئینی، غیر قانونی اور انتقامی قرار دیا گیا ہے۔
مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں صوبائی وزراء اور منتخب ارکان اسمبلی کو قانونی جواز اور مقررہ ضابطوں کے بغیر حراست میں لیا گیا۔
اس سلسلے میں وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی، وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان، ایم پی اے عبدالسلام (پی کے 58 مردان) اور ایم پی اے سلطان روم (پی کے 09 سوات) کے واقعات کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
طارق سعید مروت نے خط میں کہا کہ گرفتاریوں کے طریقہ کار اور ویڈیو شواہد سے بظاہر ظاہر ہوتا ہے کہ ان کارروائیوں میں پولیس یونیفارم پہنے اہلکار ملوث تھے۔
ان کے مطابق ایسے واقعات سے خیبرپختونخوا پولیس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے جبکہ عوام اور سیاسی حلقوں میں تشویش اور مایوسی پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قانونی مسائل میں رہنمائی کے لیے 1818 پر رابطہ کریں، چیف جسٹس پاکستان
مراسلے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ منتخب نمائندوں کو اس نوعیت کی مبینہ غیر قانونی حراست میں لینے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں قانونی کارروائی ناگزیر ہو تو اسے آئین و قانون اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔
معاون خصوصی نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ تمام واقعات کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کی جائے اور براہ راست ان کے دفتر میں جمع کرائی جائے۔
خط کی نقول وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، اسپیکر صوبائی اسمبلی، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔





