اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ شہریوں کو مفت قانونی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے عدالت آنے یا اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں، وہ گھر بیٹھے سپریم کورٹ کے 1818 لیگل کال سینٹر پر رابطہ کرکے قانونی مشورہ حاصل کرسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر سروس کا افتتاح کردیا گیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بار نمائندگان سے ملاقات بھی کی، جس میں مستحق شہریوں کو مفت قانونی مشورے اور معاونت فراہم کرنے کے لیے مشترکہ طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا۔
1818 لیگل کال سینٹر کے ذریعے وکلا، سائلین اور عام شہری اپنے مقدمات کی صورتحال، سماعت کی تاریخ، کاز لسٹ اور عدالتی فیصلوں کی نقول سے متعلق رہنمائی حاصل کرسکیں گے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریمانڈ کے بعد سیلز ٹیکس کیس کا فیصلہ 45 روز کے اندر کرنا لازم ہے۔
عدالت کے مطابق اپیلٹ فورم کی جانب سے مقدمہ دوبارہ فیصلے کے لیے بھجوانے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ حکام کو غیر معینہ مدت تک کارروائی جاری رکھنے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔ تین رکنی بینچ نے کارپوریٹ ٹیکس سے متعلق اپیل مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں : ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جلد سماعت کی درخواستوں کے حوالے سے کہا کہ ایسی درخواست کے ساتھ ٹھوس جواز ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب فکسیشن پالیسی کے برخلاف کوئی مقدمہ سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوسکتا۔
ادھر سپریم کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کیس میں ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کی بریت کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
اس دوران عدالت نے پراسیکیوٹر سندھ کی سرزنش کرتے ہوئے مزید مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی۔





