خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے، اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، یہ فیصلہ آسان نہیں تھا تاہم صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال کے باعث انتہائی اقدام اٹھانا پڑا۔

اسلام آباد میں خیبرپختونخوا کی صورتِ حال پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دھرنوں اور احتجاج کے باعث ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت کے لیے افغانستان کے دورے بھی کیے، تاہم افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد پناہ لیے ہوئے ہیں اور پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد بڑی انتظامی تبدیلیاں، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران عہدوں سے ہٹا دیے گئے

اسحاق ڈار نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور اپنے بین الاقوامی و دوطرفہ وعدوں کی پاسداری کریں۔ انہوں نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کیے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا نوٹس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا تھا، اسی لیے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں تجارتی و عمومی سرگرمیاں بحال، شاہراہوں پر ٹریفک کی روان دواں پیش رفت اور اطمینان بخش صورتحال

انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں لوگوں کو شہید کیا جارہا تھا، لیکن صوبائی حکومت مؤثر اقدامات کرنے میں غافل رہی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ جب صورتِ حال قابو سے باہر ہونے لگی تو وفاقی حکومت کو انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کا مقصد خیبرپختونخوا کے عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت خیبرپختونخوا کو ملنے والے فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟ صوبے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مؤثر انداز میں متحرک کیوں نہیں کیا گیا اور متعدد اضلاع میں سیف سٹی کیمرے کیوں نصب نہیں کیے گئے؟

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پولیس کو جدید اسلحہ فراہم نہیں کیا گیا اور صوبے کے اہم انتظامی معاملات کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت مسلسل دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیتی رہی، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی حکومت اس حوالے سے ضروری اقدامات کرنے سے گریزاں رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، تاہم اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہر قسم کے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور دہشت گردی کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا۔

عطا تارڑ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور انہی قربانیوں کے باعث ملک کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکے۔

خیبرپختونخوا میں تجارتی و عمومی سرگرمیاں بحال، شاہراہوں پر ٹریفک کی روان دواں پیش رفت اور اطمینان بخش صورتحال

امریکا اور ایران کے درمیان جنگی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کا کردار عالمی برادری کے سامنے ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیامِ امن کے لیے کوششوں کو بھی سراہا۔

عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں اور وہاں ٹی ٹی پی کے 6 ہزار سے زائد دہشت گرد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اس فیصلے کی قانونی حیثیت، صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی اور دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی پر اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔

Scroll to Top