خیبرپختونخوا کی نئی انتظامیہ نے کھیلوں اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے ایک بار پھر عملی اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔
ماضی کے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت اور نالائقی کے باعث جہاں صوبے کے باصلاحیت کھلاڑی سہولیات کو ترستے رہے اور کھیل کا میدان ویران رہا وہیں موجودہ متحرک انتظامیہ نے میدان میں آتے ہی کھلاڑیوں کے تمام درپیش مسائل کا صفایا کرنا شروع کر دیا ہے۔
کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود سے فل کنٹیکٹ کراٹے ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے اعلیٰ سطحی وفد نے سینئر وائس چیئرمین ملک جی اعوان کی سربراہی میں ایک خصوصی ملاقات کی۔
اس اہم اور بااثر وفد میں ایسوسی ایشن کے صدر و انٹرنیشنل ریفری صاحبزادہ الہادی اور ساؤتھ ایشین چیمپئن و گولڈ میڈلسٹ شمس العارفین جیسے قومی ہیرو بھی شامل تھے۔
ملاقات کے دوران جہاں کراٹے کے فروغ اور کھیلوں کی ترقی پر تفصیلی گفتگو ہوئی، وہی کھلاڑیوں نے اپنے درپیش مسائل اور ماضی میں کی جانے والی نظراندازی کا سچ کمشنر کے سامنے رکھا۔
سابق حکومتوں کے برعکس، جہاں کھلاڑیوں کو صرف کاغذی دلاسے دیے جاتے تھے، کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود نے فوری اور جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو تمام مسائل حل کرنے کے فوری احکامات جاری کر دیے جس سے ہال میں موجود تمام ہیروز کے چہرے کھل اٹھے۔
کمشنر پشاور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کی صریح ہدایات ہیں کہ باصلاحیت نوجوانوں کی مکمل سرپرستی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پی او اے کا چونکا دینے والا فیصلہ! کھیلوں کی دنیا میں بڑی ہلچل مچ گئی !
انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ زبانی جمع خرچ پر نہیں بلکہ عملی کارکردگی پر یقین رکھتی ہے۔
کھیل صرف جسمانی صحت کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک مثبت اور فعال معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہیں اور حکومت صوبے کے کھلاڑیوں کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی۔





